خالد مسعود خان
کبھی کبھی وہ کالم لکھنا پڑتا ہے جس کو لکھنے پر دل راضی نہیں ہوتا مگر پھر بھی لکھنا پڑتا ہے۔ محض دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے‘ خود کو تسلی دینے کے لیے اور اپنی بے بسی کو راستہ دینے کے لیے۔ تاہم اس قسم کا کالم لکھتے ہوئے جن پابندیوں اور ضابطوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے ان کے باعث دل کی بھڑاس بھی پوری طرح نہیں نکل پاتی۔ امریکی کاسہ لیسی میں مبتلا امت مسلمہ کے حکمرانوں‘ تیل کی دولت سے لدے پھندے برادر اسلامی ممالک اور مقدس عماموں والے بادشاہوں کو جو کچھ کہنے کو دل کرتا ہے وہ سب کچھ سوشل میڈیا پر تو پوسٹ کیا جا سکتا ہے اخبار ایسی بھڑاس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
جو ایران کے ساتھ ہوا ہے نہ تو یہ پہلی بار ہوا ہے اور نہ ہی یہ معاملہ یہاں ختم ہو گا۔ یہ ایک تسلسل ہے جو جاری ہے اور ہر حکمران یہ سمجھ کر مطمئن ہے کہ یہ اس کے ساتھ نہیں ہوگا۔ اگر کسی کو اس بارے میں شک ہے تو یہ اس کی حماقت ہے‘ وگرنہ بتانے والے سب کچھ کھل کر بتا رہے ہیں اور اس میں کوئی لاگ لپٹ یا پردہ نہیں رکھ رہے۔ چند روز قبل اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے ایک امریکی مبصر ٹکر کارلسن سے پوچھا کہ اس کا نیل اور فرات کے درمیان والے علاقے کے بارے میں کیا خیال ہے‘ امریکی سفیر نے کہا کہ ”اگر اسرائیل یہ تمام علاقے لے لے تو یہ ٹھیک ہوگا‘‘۔ امریکی سفیر کے اس بیان پر مسلم ممالک نے حسبِ معمول ڈھیلی ڈھالی اور منافقت سے بھرپور مذمت کی اور بات ختم ہو گئی۔ حالانکہ بات ختم نہیں ہوئی‘ بات تو ابھی شروع ہوئی ہے۔
پہلے عراق پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار رکھنے کا مقدمہ بنایا گیا۔ اس کو امریکہ کی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے تباہی اور بربادی سے دوچار کیا گیا۔ اس ساری خونریزی میں تمام اسلامی ممالک اول تو خاموش رہے اور اگر کسی نے کوئی بیان بھی دیا تو اس احتیاط سے دیا کہ امریکہ بہادر کے ماتھے پر بل نہ آئے۔ اصل مسئلہ صرف یہ تھا کہ اسرائیل کو مکمل اطمینان اور علاقے کا چودھری بنانے کیلئے عراق کی عسکری طاقت کو مکمل ختم کرنا ضروری تھا۔ لہٰذا تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا ڈرامہ پوری جزئیات کے ساتھ رچایا گیا اور اس جھوٹ کو بنیاد بنا کر عراق پر جنگ تھوپی اور پھر اس پر قبضہ کر لیا گیا۔ اس دوران کسی نے بھی ان ہتھیاروں کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہ مانگا اور عراق کو مکمل طور پر تباہ وبرباد کر دیا گیا۔ بعد ازاں یہ ثابت ہو گیا کہ عراق کے پاس کسی قسم کے تباہی پھیلانے والے ہتھیار نہ تھے اور اس کا اعتراف بھی کر لیا گیا مگر طاقت کی کمینگی ملاحظہ فرمائیں کہ اس غلطی کے ازالے کیلئے عراق کو کسی قسم کا ہرجانہ ادا کرنے کے بجائے الٹا اس سے اس جنگ کا تاوان تیل کی صورت میں وصول کیا گیا۔ مقصد صرف رجیم چینج اور عراق کی عسکری تباہی تھا۔
پھر لیبیا کی باری آ گئی۔ اس بار جواز یہ تراشا گیا کہ قذافی حکومت انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے باغی شہروں میں جن میں بن غازی سرفہرست تھا‘ قتل عام کرنے والی ہے۔ یعنی ابھی قتل عام ہوا نہیں اور امریکہ بہادر کو اس کا خواب آ گیا۔ اس مفروضہ قتل عام کو بہانہ بنا کر اصلی والا قتل عام کیا گیا۔ یہ سب کچھ اقوام متحدہ کے جھنڈے تلے Responsibility to Protect کے اصول کے تحت کیا گیا۔ صدر قذافی مارا گیا‘ ملک برباد ہو گیا اور اب تک خانہ جنگی‘ ملیشیائوں کی آماجگاہ اور سیاسی تقسیم کا شکار ہے۔ مقصد صرف رجیم چینج اور لیبیا کی عسکری واقتصادی بربادی تھا جو پورا ہوا۔ امریکہ بہادر کے پیٹ میں ایک ممکنہ اور اختراع شدہ قتل عام کے تصور سے ایسا درد اٹھا کہ وہ ایک لیبیا پر چڑھ دوڑا مگر گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران غزہ میں اسّی ہزار کے لگ بھگ فلسطینیوں کے قتل عام پر نہ اسے انسانی حقوق کا دھیان آیا اور نہ ہی مظلوم ومقہور عورتوں‘ بچوں اور بوڑھوں کا کوئی خیال آیا۔ یہ جدید دنیا میں سب سے ہولناک قتل عام تھا جو سب کی آنکھوں کے سامنے ہوتا رہا۔ اس دوران چشم فلک نے ایسی غذائی بندش اور ضروریاتِ زندگی سے روکنے والا ایسا محاصرہ دیکھا جو اس سے پہلے کسی نے نہ دیکھا تھا۔
لیبیا کے بعد شام کی باری آئی۔ وجہ صرف یہ تھی کہ اسرائیل کو اپنے پہلو میں متحدہ شام کسی صورت منظور نہ تھا۔ امریکہ نے اسرائیل کی خوشنودی کی خاطر یہ ملک بھی برباد کر دیا۔ آج شام کمزور‘ بکھرا ہوا اور اردگرد کے ممالک کی کٹھ پتلی کے طور پر اپنا وجود رکھتا ہے۔
ایران اور امریکہ کا بھی آپس میں براہِ راست نہ کوئی تنازع ہے اور نہ ہی کوئی جھگڑا ہے۔ اس میں بھی وجہ تنازع صرف یہ ہے کہ اسرائیل کو ایران کی قیادت اور ممکنہ ایٹمی صلاحیت سے خوف لاحق ہے۔ اسرائیل اور ایران کی باہمی عسکری قوت کا آپس میں کوئی موازنہ ہی نہیں مگر ایران کے مستقبل میں ایٹمی طاقت بننے کے امکان نے اسرائیل کی راتوں کی نیند اڑائی ہوئی تھی۔ اب بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ اسرائیل پریشان ہو اور امریکہ کو چین کی نیند آ جائے؟ چند ماہ قبل ایران کے ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرکے اعلان کیا گیا کہ ایران کی جوہری صلاحیت ختم کر دی گئی ہے۔ اور اب پھر اسی ایٹمی صلاحیت کو برباد کرنے کیلئے حملے کیے گئے ہیں‘ جو بقول صدر ٹرمپ امریکہ نے برباد کر دی تھی۔
اس بیچ مذاکرات کا ڈرامہ رچایا گیا اور اسی دوران ایران پر حملہ کر دیا گیا۔ یہ امریکہ اور اسرائیل کا مشترکہ حملہ تھا جس میں لگ بھگ ساری اہم ایرانی قیادت جس میں رہبر اعظم اور سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای‘ ان کے اہل خانہ‘ ملک کی عسکری قیادت‘ پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ اور دیگر اہم افراد شامل ہیں‘ شہید ہو گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے جواز بنایا کہ ایران حملہ کرنے والا تھا۔ سوال یہ ہے کہ ایران کس پر حملہ کرنے والا تھا؟ ایران کے پاس امریکہ پر حملے کرنے کیلئے نہ اتنے فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار ہیں اور نہ ہی صلاحیت ہے۔ دوسری بات یہ کہ پینٹاگون نے بھی اس بات کی تردید کر دی ہے کہ ایران ممکنہ طور پر حملہ کرنے والا تھا۔
اسرائیل میں امریکی سفیر نے جو بات کہی تھی وہ خالی ہوا میں اڑانے والی نہیں ہے۔ یہ ایک لانگ ٹرم منصوبہ ہے جس میں امریکہ اسرائیل کا مکمل طور پر حامی ومدد گار ہے۔ یہ سب کچھ مشرق وسطیٰ میں گریٹر اسرائیل کی تشکیل کی منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔ عالم یہ ہے کہ اس سارے کھیل میں ممکنہ متاثرہ عرب ممالک اپنی حفاظت کا بندوبست کرنے کے بجائے اپنے علاقائی تنازعات کو حل کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس طرح وہ بچ جائیں گے۔ یہ محض خام خیالی ہے کیونکہ امریکہ کو اس خطے میں صرف اسرائیل کی حفاظت‘ خوشنودی‘ پھیلائو اور اجارہ داری چاہیے۔
ہمیں یہ احساس نہیں کہ ایران میں رجیم چینج کا مطلب ہے اسرائیل کی سرحد بلوچستان سے مل جائے گی جس کے بعد بلوچستان کے مستقبل کے بارے میں اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے اس سلسلے میں خبر دی ہے کہ ایک اہم اور مقدس اسلامی ملک نے امریکہ کو ایران پر حملہ کرنے کیلئے بہت دبائو ڈالا اور امریکہ کو فیصلہ کن اقدام پر مجبور کیا‘ حالانکہ امریکی انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق ایران فوری طور پر امریکہ کیلئے خطرے کا باعث نہیں تھا لیکن ہم آہستہ آہستہ بھیڑیے کو اپنے گھر کے اندر لا رہے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ عالم اسلام میں کوئی ملک بھی ٹیکنالوجی کے حساب سے امریکہ سے مقابلے کی پوزیشن میں نہیں ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ بے ضمیری‘ بے حمیتی اور بے غیرتی میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ لگا دی جائے۔ ادھر تو دوڑ لگی ہوئی ہے۔
Load/Hide Comments

