تربت (رپورٹر) نیشنل پارٹی کے سابق مرکزی نائب انجنیئر حمید بلوچ نے نیشنل پارٹی گوگدان یونٹ کے ڈپٹی یونٹ سیکرٹری ثنا سبزل کے قتل پر شدید غم و غصے اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ نہ صرف ایک کارکن کا قتل ہے بلکہ بلوچستان میں جمہوری اور سیاسی عمل پر کھلا حملہ ہے۔
اپنے تنقیدی بیان میں انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی ایک قومی جمہوری سیاسی جماعت ہے جس کی تنظیمی جڑیں پورے بلوچستان میں عوام کے درمیان مضبوطی سے پیوست ہیں، مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ ایسے کارکنوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے جو سیاسی جدوجہد کے ذریعے عوامی حقوق کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کارکنوں کو قتل کرنا دراصل سیاسی عمل کو سبوتاژ کرنے اور بلوچستان میں جمہوری سیاست کو کمزور کرنے کی ایک مذموم اور ناکام کوشش ہے۔
انجنیئر حمید بلوچ نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکن اس کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں، جنہیں طویل جدوجہد اور نظریاتی وابستگی کے ذریعے قومی فکری اور نظریاتی سیاست کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ ایسے کارکنوں کا قتل صرف ایک فرد کی جان لینا نہیں بلکہ سیاسی اقدار اور جمہوری روایت پر بدترین حملہ ہے۔
انہوں نے مرکزی اور بلوچستان کے صوبائی حکومتوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں بدامنی اور ٹارگٹ کلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات حکومت کی نااہلی اور بے حسی کا واضح ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہوتی تو اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات نظر آتے، مگر افسوس کہ بلوچستان کے حالات دن بہ دن مزید خراب ہوتے جا رہے ہیں اور حکمران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ثنا سبزل کے قتل کی فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں، اصل مجرموں اور ان کے سرپرستوں کو بے نقاب کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، بصورت دیگر یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ صوبے میں قانون کی عملداری کمزور ہو چکی ہے اور سیاسی کارکن غیر محفوظ ہیں۔

