گھر اپنا، چوکیاں کسی اور کی!!

محمد اظہارالحق
دبئی ایک طرب گاہ تھی۔ دبئی ایک پناگاہ تھی۔ دبئی ایک سیر گاہ تھی۔ دبئی ایک پکنک سپاٹ تھا۔ دبئی ایک ٹکسال تھا جہاں سونے اور چاندی کے سکے ڈھلتے تھے۔ دبئی ایک ارضِ موعود (Promised Land) تھا جہاں گورے‘ کالے‘ گندمی‘ زرد سب رہ رہے تھے اور آئے جا رہے تھے۔ دبئی ایک جنکشن تھا جہاں منٹ منٹ جہاز اترتے تھے اور لمحہ لمحہ جہاں سے اڑتے تھے۔ دبئی دنیا کا جغرافیائی مرکز نہ سہی‘ سنہری مواقع کا مرکز تھا۔ مگر آج وہی دبئی ایک ہولناک صحرا میں تبدیل ہو چکا ہے۔ جگہ جگہ سے دھواں اُٹھ رہا ہے‘ لوگ وہاں سے بھاگنا چاہتے ہیں۔ مستقبل تاریک نظر آرہا ہے۔ کل کی دلربا نازنین آج چڑیل دکھائی دے رہی ہے۔ خوبصورت زلف سانپ بن چکی ہے۔ شہد زہر میں تبدیل ہو گیا ہے۔ جہاں ہُن برستا تھا وہاں آگ اور نوکیلا لوہا برس رہا ہے۔ جو آسمان ہر وقت دھنک دکھاتا تھا اب میزائلوں سے بھرا ہے۔ ”اور باقی صرف تمہارے پروردگار کی ذات رہے گی جو بڑی شان اور عظمت والا ہے‘‘۔
یہ لکھنے والا ایک بار یورپ سے پاکستان واپس آرہا تھا۔ جہاز کی منزل دبئی تھی جہاں سے دوسرے جہاز میں بیٹھنا تھا۔ جہاز میں مسافروں کی اکثریت سفید فام تھی۔ دبئی پہنچے تو یہ سارے سفید فام مسافر اُتر گئے۔ حیرت ہوئی کہ آخر یہاں کیا ہے کہ یورپین اور امریکی دوڑے چلے آ رہے ہیں۔ اپنے ملک میں ہر تیسرا جاننے والا بتاتا تھا کہ دبئی منتقل ہو رہا ہے۔ ایک بار حسرت سے بیگم کو کہا کہ یہ جو ہر کوئی گولڈن ویزا لے کر دبئی شفٹ ہو رہا ہے تو کاش! ہم بھی کسی طرح چلے جاتے! بیگم نے حقیقت پسندی کا درس دیتے ہوئے آگاہ کیا کہ گولڈن ویزے کے لیے گٹھری بھری ہوئی ہونی چاہیے۔ اور یہاں تو بے نیاز اور سرد مہر مگر باکمال شاعر شاہین عباس کے بقول حالت یہ تھی کہ
نکل جاتے تھے سر پر بے سرو سامانی لادے
بھری لگتی تھی گٹھری اور بھری ہوتی نہیں تھی
”اور باقی صرف تمہارے پروردگار کی ذات رہے گی جو بڑی شان اور عظمت والا ہے‘‘۔ وہ کسی کا رشتہ دار نہیں۔ نہ اس کا کوئی رشتہ دار ہے۔ اس کے ہاں کسی بوٹی مافیا کا وجود نہیں۔ اس کے نظام میں کوئی چودھری‘ کوئی وڈیرہ‘ کوئی ایم این اے کسی کے لیے فون کر سکتا ہے نہ سفارشی چٹیں چلتی ہیں۔ اس نے دنیا کے حوالے سے کچھ اصول بتا دیے جن میں سب سے بڑا اصول یہ بتایا کہ ”انسان کے لیے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اس نے سعی کی ہے‘‘۔ (النجم: 39)۔ تو جناب! آپ نے سونے سے بنی ہوئی کاروں کے لیے سعی کی‘ آپ کو مل گئیں۔ آپ نے خواب گاہوں اور ڈرائنگ روموں والے ہوائی جہازوں کے لیے سعی کی‘ آپ کو مل گئے۔ آپ نے جہاز سے اُترنے کے لیے سونے سے بنی ہوئی سیڑھی کے لیے سعی کی‘ آپ کو مل گئی۔ آپ نے فرانس کا میلوں لمبا بِیچ بک کرانے کے لیے سعی کی‘ آپ کو مل گیا۔ آپ جکارتہ تشریف لے گئے تو ایک ہزار افراد معیت میں تھے۔ کئی جہازوں نے آپ کا سامان ڈھویا اور ڈھوتے رہے۔ آپ نے ذاتی دولت بڑھانے کے لیے سعی کی‘ آپ کے ذاتی اثاثے بیس ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ آپ نے رئیل اسٹیٹ میں‘ عالمی بزنس میں‘ ٹاپ کی ایئر لائن میں اور عظیم الجثہ کاروباری گروپوں میں سرمایہ کاری کے لیے سعی کی‘ آپ کامیاب ہوئے۔ آپ نے دنیا کی سب سے بڑی لگژری یاٹ (Yacht) کے لیے سعی کی جس کی قیمت چار سو ملین ڈالر ہے‘ آپ کو مل گئی۔ آپ نے ذاتی بوئنگ 747کے لیے سعی کی‘ آپ کو مل گیا۔ آپ نے یورپ میں جائیدادیں حاصل کرنے کے لیے سعی کی‘ آپ نے حاصل کر لیں۔ آپ نے گھوڑوں کی ریس میں نام بنانے کے لیے سعی کی‘ آپ ظفر یاب ہوئے۔ آپ نے ٹاپ کلاس‘ گراں ترین‘ بیش بہا‘ گاڑیوں کا بیڑہ (فلیِٹ) اکٹھا کرنے کے لیے سعی کی‘ آپ اس کے مالک ہو گئے۔ اللہ نے اپنا وعدہ پورا کیا: ”یہ کہ انسان کے لیے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اس نے سعی کی ہے‘‘۔
”اور باقی صرف تمہارے پروردگار کی ذات رہے گی جو بڑی شان اور عظمت والا ہے‘‘۔ روایت ہے کہ 1973ء میں جب عرب اسرائیل جنگ کے آثار ظاہر ہو رہے تھے‘ اسرائیل کی معاشی صورتحال ابتر تھی۔ ایک امریکی سینیٹر ایک خاص مشن پر اسرائیل آیا۔ وہ امریکی سینیٹ کی سپیشل اسلحہ کمیٹی کا سربراہ تھا۔ گولڈا میئر اسرائیل کی وزیراعظم تھی۔ اس نے سینیٹر سے اپنے گھر میں ملاقات کی۔ وہ مہمان کو اپنے باورچی خانے میں لے گئی۔ اسے کھانے کی میز کے سامنے بٹھایا۔ خود چائے کے لیے چولہے پر دیگچی چڑھا دی۔ پانی ابلنے کے انتظار میں وہ سینیٹر کے پاس آبیٹھی اور لڑاکا جہازوں‘ مشین گنوں اور میزائلوں کے بارے میں گفتگو ہونے لگی۔ اتنے میں پانی ابلنے کی آواز آئی۔ گولڈا میئر اٹھی‘ چائے بنائی اور سینیٹر کو پیش کی۔ پھر اس نے اسلحہ کا سودا پکا کیا اور سینیٹر سے کہا کہ وہ اپنے سیکرٹری کو اس کے سیکرٹری کے پاس بھیج کر معاہدے کو تحریری شکل دیدے۔ روایت مزید بتاتی ہے کہ اس سے پہلے یہ سودا اسرائیلی کابینہ نے نامنظور کر دیا تھا۔ اقتصادی صورتحال ایسی تھی کہ اگر یہ سودا ہو جاتا تو اسرائیلیوں کو کئی سال دن میں صرف ایک کھانے پر اکتفا کرنا پڑتا۔ مگر خاتون وزیراعظم نے کابینہ کو بتایا کہ اگر تم جیت گئے تو فاتح کہلاؤ گے اور تاریخ جب کسی کو فاتح قرار دیتی ہے تو یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ اس نے دن میں کتنی بار کھانا کھایا تھا‘ کتنے انڈے کھائے تھے اور ناشتے کی میز پر مکھن‘ جام اور شہد تھا یا نہیں اور جوتوں میں کتنے سوراخ تھے۔ پھر جنگ ہوئی اور مصر اور شام کی متحدہ افواج کو اسرائیل نے کچھ حاصل نہ کرنے دیا۔ جنگ کے کئی سال بعد کسی صحافی نے گولڈا میئر سے پوچھا کہ اسلحہ کا یہ سودا طے کرتے وقت اس کے ذہن میں کیا تھا؟ اس نے بتایا کہ اس نے تاریخ میں پڑھا تھا کہ مسلمانوں کے پیغمبر کا انتقال ہوا تو گھر میں دِیا جلانے کے لیے تیل نہ تھا مگر دیوار پر نو تلواریں لٹکی ہوئی تھیں۔ کتنوں کو خبر ہو گی کہ مسلمانوں کی معیشت کیسی تھی مگر ایک بات سب جانتے تھے کہ انہوں نے آدھی دنیا فتح کر لی۔ نہیں معلوم یہ روایت کس حد تک درست ہے۔ کسی کتاب کا حوالہ نہیں۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہانگ کانگ کے کسی جریدے میں یہ واقعہ لکھا گیا۔ یہ واقعہ درست ہے یا نہیں‘ بہر طور ناممکن نہیں لگتا۔ اس وقت جو حال شرقِ اوسط کی مسلم ریاستوں کا ہے‘ اس پر غور کیجیے تو معاملہ وہی لگتا ہے کہ جن کے گھروں میں جھاڑ اور فانوس روشنیوں کے دریا بہا رہے ہیں مگر دیواروں پر تلواریں نہیں لٹک رہیں‘ نقصان میں ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ نے دن رات ایک کیے‘ اسلحہ بنایا۔ اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ایران کی ایک ایک شاہراہ‘ ایک ایک چوک‘ ایک ایک بلڈنگ کو نشان زد کیا۔ ایران نے بھی شدید محنت کی۔ نصف صدی کی پابندیوں کے باوجود تیاری پوری کی اور دشمن پر میزائلوں کی بارش کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ سادہ سی پلیٹ میں کھانا کھانے والے ہلاکو خان نے معتصم باللہ کے سامنے سونے کی پلیٹ میں ہیرے جواہرات رکھے اور کہا کھاؤ۔ خلیفہ ممیایا کہ میں سونا کیسے کھا سکتا ہوں؟ تو پھر تم نے جمع کیوں کیا؟ ہلاکو نے جواب دیا: لوہے کی ان جالیوں کو جو تم نے محل میں لگوائیں‘ پگھلا کر تیر کیوں نہ بنائے؟ ہیرے جواہرات جمع کرنے کے بجائے دولت اپنے سپاہیوں پر خرچ کرتے تو آج تمہارے لیے لڑتے!! یہ دنیا جنت نہیں‘ دنیا ہے اور دنیا سفاک ہے۔ اپنے گھر میں کسی اور فوج کی چوکیاں (Bases) رکھو گے تو وہ کبھی تمہارا دفاع نہیں کریں گی!!

اپنا تبصرہ بھیجیں