علی خامنہ ای کا تشیع اور ہمارا تاریخی شعور

خورشید ندیم
علی خامنہ ای شیعہ نہیں تھے۔ گرفتارانِ ابوبکرؓ و علیؓ کو شاید اس کی خبر نہیں ہو سکی۔
ہمارا تاریخی شعور ایک بار پھر عرصۂ آزمائش میں ہے۔ گزشتہ ایک صدی میں وقت نے کئی بار ہمارے دروازے پر دستک دی اور ہمارے تاریخی شعور کو آزمایا۔ کبھی ہم پوری طرح کامیاب رہے‘ کبھی یہ کامیابی جزوی رہی۔ کبھی یوں محسوس ہوا جیسے وحدت کا دریا بہہ نکلا ہے۔ پھر معلوم ہوا کہ یہ ایک سراب ہے جسے ہم دریا سمجھ بیٹھے۔ متعدد بار ہم ناکام رہے۔ تعصبات ہمارے پاؤں کی بیڑیاں بنے رہے۔
تاریخی تجزیے سے پہلے ایک اصولی بات۔ مسلّمات اور ضروریاتِ دین کے باب میں کوئی اختلاف نہیں۔ سب مانتے ہیں کہ دین وہی ہے جو اللہ کے آخری رسولﷺ کی سند سے ثابت ہے۔ آپﷺ دنیا سے رخصت ہوئے تو دین مکمل ہو چکا تھا۔ اس کا اعلان آسمان سے کر دیا گیا۔ آپﷺ کے بعد اس دین میں سرِ مو کمی کی جا سکتی ہے نہ اضافہ۔ امتِ مسلمہ وہی ہے جس کا محور نبیﷺ کی ذاتِ والا صفات ہے۔ ان کے بعد جو کوئی ہے‘ ہمیں بہت محبوب ہو سکتا ہے مگر وہ اسی متن کا حاشیہ اور اسی چاند کا ہالہ ہے۔ مسلمانوں کے صدرِ اوّل میں‘ اس حوالے سے کوئی اختلاف نہیں رہا۔ یہ دور تمام ہوا جب صحابہ کی جماعت دنیا سے رخصت ہوئی۔ بعد میں سیاسی گروہ بندی ہوئی۔ کچھ غالیوں نے اس اختلاف کو مذہب کا لبادہ پہنا دیا۔ سیاسی اختلاف مذہبی بن گیا۔ وقت نے بارہا موقع دیا کہ ہم اس تاریخی شعورکی اصلا ح کریں۔ جب ہم نے وقت کی آواز پہ لبیک کہا‘ ہم کامیاب رہے۔ جب اس سے کان بند کیے‘ ہم پر ذلت مسلط کر دی گئی۔
اب آئیے تاریخ کی طرف۔ خلافتِ عثمانیہ ختم ہوئی تو یہ ہمارے تاریخی شعور کی ناکامی تھی۔ ہمارے جغرافیائی اور نسلی مفادات غالب رہے۔ عرب ترکوں سے برسرِ پیکار ہوئے اور ہماری ہوا اکھڑ گئی۔ سلطنتوں کا خاتمہ تاریخ کا فیصلہ تھا مگر ہم نے اسے تاریخی جبر کے بجائے‘ عرب وعجم کی نظر سے دیکھا۔ نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ اس کے بعد وقت نے طویل عرصہ ہمیں سنبھلے کا موقع نہیں دیا۔ ہم قومی ریاستوں میں منقسم ہوئے اور وجودی بقا کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے لگے۔ قدرت نے ہمیں بہت نوازا مگر ہم نے اس کی قدر نہ کی۔ عقل سے لے کر معدنی وسائل تک‘ سب اغیار کے پاس گروی رکھ دیے۔ یہ ہمارے تاریخی شعور کی بڑی ناکامی تھی۔
یہ عجیب بات ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کا تاریخی شعور سب سے بہتر ثابت ہوا۔ خلافت کے احیا کی بات ہوئی تو یہاں کے شیعہ نے ماضی کا اسیر رہنے کے بجائے عصری شعور کو سمجھا۔ برصغیر سے جو وفد انگریزوں کے پاس یہ مطالبہ لے کر گیا کہ خلافتِ عثمانیہ کو باقی رکھا جائے ان میں سر آغا خان بھی شامل تھے۔ وہ اسماعیلی تھے اور ان کے تاریخی شعور میں خلافت کا کہیں ذکر نہیں تھا۔ انہوں نے اپنے اس شعور کو جدید حقائق سے ہم آہنگ بنا لیا۔ تحریکِ پاکستان برپا ہوئی تو سُنّیوں نے تاریخی شعور کی بیداری کا مظاہرہ کیا جب ایک اسماعیلی ثم اثنا عشری کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ انہیں اپنا قائداعظم مان لیا۔ان کے اس شعور نے نئے امکانات کے دروازے کھول دیے۔ یہ تاریخی شعور ایک بار پھر وقت کی آزمائش پہ پورا اترا جب پاکستان ایک ایسا آئین بنانے میں کامیاب ہو گیا جو مسلکی یا فرقہ وارانہ نہیں تھا۔ یہ متفقہ آئین تھا جس میں صرف قرآن وسنت کو دین قرار دیا گیا۔
مشرقِ وسطیٰ میں اس تاریخی شعور کے لیے اس وقت آزمائش کا دروازہ کھلا جب ایران میں انقلاب آیا۔ فضا ‘لا شرقیہ لا غربیہ… اسلامیہ اسلامیہ‘ کے نعروں سے گونج اٹھی۔ دنیا بھر کے مسلمان تاریخ کی گرفت سے نکلے اور انہوں نے اس انقلاب کا خیر مقدم کیا۔ پھر اسے نظر لگ گئی۔ ایران کو دستوری سطح پر ایک خاص فقہ کا پابند بنا کر‘ انقلاب کو برآمد کرنے کااعلان کر دیا گیا۔ عرب کے اہلِ تشیع کو اس عصبیت کے عَلم تلے جمع کرنے کا فیصلہ ہوا۔ ولی رضا نصر نے اپنی کتاب ‘شیعہ احیا‘ (Shia Revival) میں اس کی تفصیل بیان کی ہے۔ عرب کی بادشاہتوں میں خطرے کی گھنٹیاں بج اٹھیں۔ عراق اور ایران آٹھ سال باہم دست وگریبان رہے۔ پاکستان مشرقِ وسطیٰ کے خیر وشر سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ اسلام کا خیر وہاں سے اٹھا اور ہم نے اپنے دامن میں سمیٹ لیا۔ عرب وعجم کے جھگڑے کا شعلہ لپکا تو ہمارا دامن جل اٹھا۔ انقلابِ ایران ہمارے تاریخی شعور کے لیے آزمائش بنا تو ہم اس میں پورا نہ اتر سکے۔
جناب خامنہ ای کی شہادت نے ہمارے تاریخی شعور کو ایک بار پھر آزمایا ہے۔ پہلے مرحلے میں ہم کامیاب رہے جب پوری امتِ مسلمہ نے اسے اپنا نقصان سمجھا۔ پاکستان میں ریاست اور عوام کا فاصلہ مٹ گیا۔ بدقسمتی سے دیگر مسلم ممالک میں باقی رہا۔ ابتدا میں خیر کے امکانات دکھائی دیے جب سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک کی طرف سے یہ پیغام دیا گیا کہ وہ ایران کے خلاف کسی جارحیت کا حصہ نہیں بنیں گے۔ تاہم اس حادثے کی جس طرح مذمت ہونی چاہیے تھی‘ نہیں ہوئی۔ دونوں اطراف سے جس بصیرت اور حکمت کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے تھا‘ وہ نہیں ہو سکا۔ موقع مگر ابھی موجود ہے کہ ہم ایک بار پھر اپنے تاریخی شعور کا جائزہ لیں۔
ایک پسِ پردہ منصوبہ کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ یہ گریٹر اسرائیل کا تصور ہے۔ یہ اب کسی مذہبی متن کا معاملہ نہیں رہا۔ جب امریکہ کے سفیر نے اس کو اپنا لیا جو مذہب کا نہیں‘ وقت کی سب سے بڑی عصری طاقت کا نمائندہ ہے تو یہ محض خیال نہیں رہا‘ ایک سیاسی منصوبہ بن گیا۔ یہ سفیر اس سے پہلے یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ غزہ میں بھی فلسطینیوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ انہیں اردن‘ سعودی عرب‘ مسلمان جہاں چاہیں آباد کر دیں۔ اس سے یہ واضح ہے کہ ایران کی قوت کے خاتمے کا مطلب اس منصوبے کے راستے میں حائل مزاحمت کی ہر علامت کو ختم کرنا ہے۔ دوسری حقیقت جو واضح ہوئی وہ یہ کہ خلیجی ممالک کی معاشی ترقی ایک ایسی چکا چوند ہے جو نظروں کو خیرہ کر سکتی ہے مگر انہیں بیرونی خطرات سے محفوظ نہیں رکھ سکتی۔ ان کا دفاعی نظام اتنا کمزور ہے کہ اس پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے ساتھ یہ بھی معلوم ہو گیا کہ امریکہ ناقابلِ اعتبار دوست ہے۔ خواہی نخواہی مقابلہ اسرائیل سے ہے اور کوئی شک نہیں کہ امریکہ اسرائیل ہی کے ساتھ کھڑا ہو گا۔ اگر اس خطے میں گریٹر اسرائیل بنتا ہے تو یہ سب اس کا تر نوالہ ہوں گے۔
اس لیے اب لازم ہو گیا ہے کہ خلیج کے سب ممالک بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے‘ اپنے تاریخی شعور کو عصری حقائق سے ہم آہنگ بنائیں۔ ایران اپنے تعصبات سے نکلے اور عرب بھی۔ انہیں پاکستان جیسی ایک نعمت میسر ہے جو ایک ایٹمی طاقت ہے۔ یہ طے ہے کہ مستقبل کے معرکے میں یہ صلاحیت فیصلہ کن ہو گی۔ یہ تاریخ کا ایک عجیب موڑ ہے کہ ایک شیعہ اکثریتی مملکت اس وقت سنی دنیا کی دفاعی فصیل بن گئی ہے۔ یہ فصیل اگر گرتی ہے تو اس کے بعد ایک گریٹر اسرائیل سامنے دکھائی دیتا ہے جس کے سامنے عرب بادشاہتیں ریت کی دیوار ہیں۔ اگر ہم ان حقائق کا ادراک کر سکیں تو گرفتارانِ ابوبکرؓ و علیؓکے پاس بقا کا صرف ایک راستہ ہے کہ وہ اس اسیری سے رہائی پائیں اور ایک ہو جائیں۔ اگر جناب خامنہ ای کی شہادت سے اس تاریخی شعور کو جلا ملے تو یہ شہادت ہمارے لیے نعمتِ عظمیٰ ثابت ہو گی۔ اگر سنی شیعہ دونوں‘ اسے ایک شیعہ کے بجائے ایک مسلمان کی شہادت سمجھیں تو پل بھر میں دیواریں گر سکتی ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے‘ اس پر ان شاء اللہ اگلے کالم میں بات ہو گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں