سکندرآباد،سوراب(این این آئی)چیئرمین یونین کونسل مولی حافظ خلیل الرحمن لہڑی نے کلی مبارک زئی مولی میں رمضان ریلیف پیکج کی تقسیم کے التوا اور دیہی علاقوں کے مستحقین کو تاحال ریلیف سے محروم رکھنے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے فلاحی اقدامات کو ضلع سوراب میں دانستہ غیر مؤثر کیا جارہا ہے۔ راشن پیکج کی تقسیم کا مبہم طریقہ کار قبول نہیں، چیئرمین یونین کونسل مولی حافظ خلیل الرحمن لہڑی کا کہنا تھا کہ سوراب میں رمضان ریلیف پیکج کے تحت راشن کی تقسیم میں مسلسل تاخیر اور دیہی علاقوں کے مستحقین کو نظر انداز کیے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی انتظامیہ کی غیر سنجیدہ حکمت عملی اور تاخیری حربے وزیراعلیٰ بلوچستان کے نیک اور بروقت اقدامات کو دانستہ طور پر غیر مؤثر بنا رہے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر دیہی علاقوں میں راشن کی تقسیم کے عمل میں التوا اور مبہم طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔حافظ خلیل الرحمن لہڑی نے اپنے بیان میں کہا کہ صوبائی حکومت، بالخصوص وزیراعلیٰ بلوچستان، نے ماہِ رمضان میں غریب اور محتاج خاندانوں تک ریلیف پہنچانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے، مگر سوراب کی ضلعی انتظامیہ اپنی ناقص منصوبہ بندی اور تاخیری حربوں کے ذریعے اس نیک اقدام کی روح کو مجروح کررہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رویہ نہ صرف حکومتی پالیسی کی نفی ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ دیگر اضلاع میں مستحقین کی دہلیز پر راشن پہنچا کر پروگرام کو اب تک ل کامیابی سے مکمل کیا گیا ہے، مگر سوراب میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ تقسیم کی سرگرمیاں صرف شہری حدود تک محدود ہیں، جبکہ کلی مبارک زئی مولی سمیت تحصیل مہرآباد، گدر دشت گوران اور دیگر دور دراز دیہی علاقے تاحال ریلیف سے محروم ہیں، یہ امتیازی سلوک کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔یوسی چیئرمین نے مزید کہا کہ انتظامیہ نے پہلے سروے اور فہرستیں جمع کروانے کے بہانے عوام کو کئی دن دفاتر کے چکر لگوائے۔ بزرگ افراد، خواتین اور دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد موسم سرما کے دنوں میں خوار رہے، مگر کسی نے سنجیدگی نہیں دکھائی۔ مقامی نمائندوں اور معتبر شخصیات کی مدد سے فہرستیں باقاعدہ مرتب اور جمع کروائی گئیں، لیکن اب انہی فہرستوں کے مطابق تقسیم سے گریز کیا جا رہا ہے، جو واضح بدنیتی اور غیر شفافیت کی علامت ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر فہرستوں پر اعتراضات تھے تو بروقت آگاہ کیا جاتا، نہ کہ عوام کو امید دلا کر خاموشی اختیار کی جاتی۔ اس رویے نے مستحقین میں بے چینی، تشویش اور مایوسی کو جنم دیا ہے۔ کئی سفید پوش خاندان رمضان المبارک میں بنیادی اشیائے خورونوش سے محروم ہیں، جو افسوسناک صورتحال ہے۔حافظ خلیل الرحمن لہڑی نے زور دیا کہ دیہی علاقوں کے خوار ہونے کے عمل کو نظر انداز کرنا ناقابل قبول ہے، حالانکہ یہی وہ طبقہ ہے جس کے لیے یہ پیکج ترتیب دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بروقت اور منصفانہ تقسیم نہ کی گئی تو اس کا براہِ راست اثر صوبائی حکومت کی ساکھ پر پڑے گا، اور اس کی ذمہ داری مقامی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔چیئرمین یونین کونسل نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر دیہی علاقوں میں راشن کی تقسیم کا باقاعدہ شیڈول جاری کیا جائے، مرتب شدہ فہرستوں کے مطابق مستحقین کو ان کا حق دیا جائے، اور منتخب نمائندوں کو اعتماد میں لے کر شفاف طریقے سے عمل مکمل کیا جائے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ اعلیٰ حکام فوری نوٹس لے کر صورتحال کا سدباب کریں گے تاکہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے فلاحی اقدامات حقیقی معنوں میں ثمر آور ثابت ہوں اور رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں مستحقین کو ریلیف کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔

