تحریر: محمدمظہر رشید چودھری (03336963372)
آج کا کالم ’سانچ‘ میڈیا رپورٹس اور تازہ ترین اعداد و شمار کی روشنی میں آوارہ کتوں کے کاٹنے اور ریبیز کے بڑھتے واقعات پر مبنی ہے۔ پاکستان میں یہ مسئلہ اب ایک سنگین عوامی صحت کا بحران بن چکا ہے، جہاں روزانہ سینکڑوں افراد کتے کے کاٹنے کا شکار ہو رہے ہیں اور ریبیز جیسی مہلک بیماری سے اموات ہو رہی ہیں۔ ریبیز ایک ایسا مرض ہے جو علامات ظاہر ہونے کے بعد تقریباً 100 فیصد جان لیوا ثابت ہوتا ہے، مگر بروقت اینٹی ریبیز ویکسین (PEP)’پوسٹ ایکسپوڑر پروفیلیکسیس‘ اور مناسب علاج سے اس سے مکمل بچاؤ ممکن ہے۔ افسوس کہ ویکسین کی کمی، آوارہ کتوں کی بے قابو تعداد اور عوامی آگاہی کی کمی اس بحران کو مزید شدید بنا رہی ہے۔ محکمہ صحت پنجاب کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، 2024 اور 2025 کے دو سالوں میں 4 لاکھ 36 ہزار سے زائد افراد کتے کے کاٹنے کا شکار ہوئے۔ 2024 میں 2 لاکھ 32 ہزار سے زائد کیسز تھے، جبکہ 2025 میں 2 لاکھ 3 ہزار سے زیادہ۔ ڈیرہ غازی خان میں سب سے زیادہ 28 ہزار سے زائد، رحیم یار خان میں 26 ہزار، فیصل آباد میں 25 ہزار اور لاہور میں 15 ہزار سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے۔ لاہور سمیت پنجاب کے بڑے شہروں میں روزانہ 700 سے 900 افراد اینٹی ریبیز ویکسین لگوانے ہسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں۔ ناقص کوڑا کرکٹ مینجمنٹ اور آوارہ کتوں کی افزائش اس اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ سندھ میں 2025 میں 42 ہزار سے زائد کتے کے کاٹنے کے کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں 22 اموات (زیادہ تر بچے) شامل تھیں۔ کراچی میں 29 ہزار کیسز اور 19 ریبیز اموات ہوئیں۔ 2026 کے ابتدائی دنوں میں صورتحال مزید خراب ہو گئی، پہلے 5 دنوں میں انڈس ہسپتال کورنگی میں 300 سے زائد نئے مریض آئے۔ جنوری 2026 میں 3 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔ فروری تک کراچی میں 5 تصدیق شدہ ریبیز اموات ہو چکی تھیں، جن میں جے پی ایم سی اور انڈس ہسپتال کے کیسز شامل ہیں۔ روزانہ جے پی ایم سی میں 40 نئے کیسز اور 40-50 فالو اپ مریض آ رہے ہیں، رمضان کے دوران 5 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ سال 2026 کا پہلا ریبیز کیس ایک 8 سالہ بچی کا تھا جوکتے کے کاٹنے کے بعد ناکافی علاج کی وجہ سے مر گئی۔ خیبر پختونخوا میں 2025 کے مقابلے میں 2024 سے 27 ہزار کا اضافہ ہوا تھا (87 ہزار کیسز)، مگر 2026 کی تازہ رپورٹس میں بھی اضافہ جاری ہے۔ پاکستان مجموعی طور پر دنیا میں ریبیز اموات میں تیسری پوزیشن پر ہے، جہاں سالانہ 1000 سے 5000 اموات ہوتی ہیں۔ان واقعات میں اضافہ کی وجوہات میں آوارہ کتوں کی لاکھوں تعداد، کچرا پھیلانا، ویکسینیشن کی کم کوریج (صرف 5 فیصد کے قریب) اور کوئی مربوط ڈاگ کنٹرول پالیسی نہ ہونا۔ بہت سے کیسز انڈر رپورٹڈ ہوتے ہیں، خاص طور پر دیہی علاقوں میں۔ فوری اقدامات میں فوری طبی امداد، کاٹنے پر زخم کو 15 منٹ تک صابن اور بہتے پانی سے دھوئیں، پھر فوری ہسپتال جائیں اور PEP کورس مکمل کروائیں۔ حکومتی سطح پرجن اقدامات کی ضرورت ہے ان میں آوارہ کتوں کی ویکسینیشن،نس بندی (TNVR)، بہتر ویسٹ مینجمنٹ اور ویکسین کی مسلسل دستیابی یقینی بنانا شامل ہے۔ والدین بچوں کو تنہا نہ چھوڑیں، پالتو جانوروں کو ویکسینیٹ کروائیں، کچرا مناسب طریقے سے پھینکیں۔ سکولوں، مساجد اور میڈیا کے ذریعے لوگوں کو بتایا جائے کہ ریبیز قابلِ روک ہے۔ معزز قارئین! یہ بحران اب ہماری گلیوں میں ہے۔ اگر ہم سب نے مل کر اقدامات نہ اٹھائے تو مزید بچوں اور خاندانوں کی جانیں ضائع ہوں گی۔ حکومت، بلدیاتی ادارے اور عوام کو مل کر اس پر قابو پانا ہوگا۔ بروقت علاج کروائیں، آگاہی پھیلائیں اور آوارہ کتوں کے مسئلے کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ آپ کی ایک چھوٹی احتیاط کسی کی جان بچا سکتی ہے! ٭

