موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے باعث ملک کے نظریاتی تشخص، جمہوری اقدار اور آئینی بالادستی کو پس پشت ڈالا جارہا ہے،مولانا عبدالرحمن رفیق

کوئٹہ(این این آئی)جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینیئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، مرکزی مجلسِ فقہی کے سربراہ و ضلعی سرپرستِ اعلیٰ مفتی محمد روزی خان، حاجی بشیر احمد کاکڑ، مولانا حفیظ اللہ، مولانا محمد سلیمان، حافظ دوست محمد مدنی، مولانا عبدالبصیر، حافظ رشید احمد، حاجی محمد شاہ لالا، مفتی نیک محمد، حاجی نعمت اللہ اچکزئی اور دیگر رہنماؤں نے کہا ہے کہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سلیکٹیڈ حکومت نے غیر جمہوری آئینی ترامیم کا باقاعدہ ٹھیکہ اٹھا رکھا ہے۔ پارلیمنٹ کو عوامی امنگوں اور قومی مفادات کی ترجمانی کا ادارہ ہونا چاہیے تھا مگر بدقسمتی سے اسے محض ربڑ اسٹیمپ میں تبدیل کردیاگیا ہے جہاں عوامی مسائل کے حل کے بجائے مخصوص افراد اور طبقات کو بچانے کے لیے آئینی ترامیم کی جارہی ہیں انہوں نے کہاکہ آئینِ پاکستان قومی وحدت، جمہوری اقدار اور ریاستی اداروں کے توازن کا ضامن ہے مگر حالیہ اقدامات سے محسوس ہورہا ہے کہ آئین کی روح کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جمہوریت کے دعویدار جماعتیں اگر پارلیمنٹ کو صرف اپنی سیاسی ضرورتوں اور مفادات کے لیے استعمال کریں تو یہ جمہوری اصولوں کی صریح نفی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ خود کو جمہوریت کے چیمپئن قرار دینے والی جماعتیں آج ایسی ترامیم کی حمایت کررہی ہیں جن سے جمہوری روایات اور پارلیمانی بالادستی شدید متاثر ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا بنیادی کردار قانون سازی کے ذریعے عوامی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا اور ریاستی نظام کو مضبوط بنانا ہے مگر بدقسمتی سے موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے باعث ملک کے نظریاتی تشخص، جمہوری اقدار اور آئینی بالادستی کو پس پشت ڈالا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ریاستی ادارے اور آئینی ڈھانچہ سیاسی مصلحتوں کی نذر ہوجائیں تو اس کے نتائج پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ آئینی ترامیم کسی بھی ملک کے مستقبل اور ریاستی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں اس لیے ایسی ترامیم وسیع تر قومی مشاورت، پارلیمانی روایات اور عوامی اعتماد کے ساتھ ہونی چاہئیں اگر حکومت نے اس طرزِ عمل کو جاری رکھا تو اس سے نہ صرف جمہوری نظام کمزور ہوگا بلکہ عوام کا پارلیمنٹ اور سیاسی عمل پر اعتماد بھی مجروح ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں