سندھ اور بالخصوص کراچی میں پشتونوں کے ساتھ امتیازی سلوک بند کیا جائے صدیق آغا

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی سندھ کے صدر صدیق آغا نے کہا ہے کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں پشتونوں کے ساتھ امتیازی، ناروا اور غیر انسانی سلوک قابلِ مذمت ہے اور اسے فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو پارٹی آئینی و جمہوری طریقے سے بھرپور احتجاج کرے گی۔صوبائی سیکریٹریٹ میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے جہاں تمام قومیتوں کو آئین کے تحت مساوی حقوق حاصل ہیں، مگر حالیہ دنوں میں پشتونوں کو اجتماعی طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے شدید تشویش اور بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کے نام پر سندھ میں آباد مقامی پشتون شہریوں کو بلاجواز ہراساں کیا جا رہا ہے۔ مختلف علاقوں سے اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ کم عمر بچوں تک کو گھروں اور محلوں سے حراست میں لے کر کیمپوں میں منتقل کیا جاتا ہے اور ان کے والدین کو دور دراز علاقوں سے بلا کر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔صدیق آغا نے الزام عائد کیا کہ بزرگوں، خواتین اور عام شہریوں کو شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات کے بہانے گھنٹوں حراست میں رکھا جاتا ہے اور بعض مقامات پر رشوت لینے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں، جو آئین اور بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے۔انہوں نے کہا کہ سمگلنگ اور انکروچمنٹ کے نام پر بھی خصوصاً پشتون تاجروں، ہوٹل مالکان اور محنت کشوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ رات کے وقت دکانوں پر چھاپے مارنے، سامان ضبط کرنے اور بغیر نوٹس کاروبار مسمار کرنے کی اطلاعات تشویشناک ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بعض مواقع پر متاثرہ افراد کے احتجاج یا وضاحت طلب کرنے پر فائرنگ کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جس کے نتیجے میں شہری زخمی ہوئے۔ یہ عمل غیر قانونی اور قابلِ مذمت ہے۔انہوں نے کہا کہ پشتون اس ملک کے برابر کے شہری ہیں اور انہوں نے پاکستان کی معیشت، تجارت، ٹرانسپورٹ اور تعمیرات سمیت مختلف شعبوں میں اہم کردار ادا کیا ہے، اس لیے کسی بھی قوم کو اجتماعی طور پر مجرم قرار دینا یا نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پشتون شہریوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے، کم عمر بچوں، خواتین اور بزرگوں کے ساتھ ناروا سلوک میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے، تاجروں کے خلاف کارروائیوں کی تحقیقات کی جائیں اور شہریوں پر فائرنگ کے واقعات کی شفاف انکوائری کر کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔ اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں، وکلاء، تاجروں اور دیگر حلقوں سے رابطے کر کے مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا جبکہ ضلعی تنظیموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مقامی سطح پر عوام سے رابطے بڑھائیں اور کسی بھی زیادتی کی صورت میں پُرامن احتجاج کے ذریعے آواز بلند کریں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو پارٹی عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے احتجاجی تحریک سمیت سخت لائحہ عمل اختیار کرنے پر مجبور ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں