فلسطینی طلبہ و طالبات سے ملاقات

ڈاکٹر حسین احمد پراچہ
آج کی دلگیر ودلگداز فضا میں غزہ سے تعلق رکھنے والے دو اڑھائی سو طلبہ وطالبات کے ساتھ ڈیڑھ دو گھنٹے کی ملاقات دل خوش کن بھی تھی اور حوصلہ افزا بھی۔
غزہ کے تقریباً 400 فلسطینی طلبہ وطالبات لاہور اور اسلام آباد کی مختلف یونیورسٹیوں اور میڈیکل کالجوں میں زیر تعلیم ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں کہ جو برستے بموں اور گولوں کی گھن گرج میں پل کر جوان ہوئے ہیں۔ قابلِ تحسین ہیں رفاہی تنظیم کے صدر ڈاکٹر حفیظ الرحمن اور سیکرٹری جنرل وقاص جعفری صاحب کہ جن کی شبانہ روز محنت اور حکومت پاکستان کے تعاون سے ان طلبہ وطالبات کی تقریباً ڈیڑھ سال قبل پاکستان آمد اور مختلف بڑی یونیورسٹیوں اور میڈیکل کالجوں میں ان کی تعلیم کا سلسلہ دوبارہ جاری ہو گیا۔ چند روز قبل لاہور میں مجھے ان فلسطینی طلبہ وطالبات سے خطاب کرنے اور بعد ازاں افطار ڈنر کے دوران تفصیلی تبادلۂ خیال کا موقع ملا۔
میں نے عربی زبان میں اپنے مختصر خطاب میں غزہ کے شہدا اور مجاہدین کے جواں ہمت بچوں سے کہا کہ ہم پاکستان میں اپنے دلوں کی اتھاہ گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں۔ میرے بیٹو اور بیٹیو! آپ کسی اجنبی ملک میں نہیں آپ اپنے دوسرے گھر پاکستان میں موجود ہیں اس پر غزہ کے نوجوانوں نے دل کھول کر تالیاں بجائیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ یوں تو ہر مسلمان ہمارا بھائی ہے مگر مسجد اقصیٰ کے محافظوں اور القدس الشریف اور اس کے گرد ونواح میں بسنے والے باہمت اور زندہ دل بچو! سارے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے دل وجان سے آپ لوگوں کی خدمت کو ہم اپنا دینی و ملی فریضہ سمجھتے ہیں۔
دورانِ خطاب ہی میں نے قبل از افطار گفتگو کو بوجھل بننے سے بچاتے ہوئے طالبات سے پوچھا کہ کیا انہوں نے پاکستان میں ”مقلوبہ‘‘ کھایا ہے؟ انہوں نے نفی میں جواب دیا تو میں نے کہا کہ کیا آپ نے بریانی کھائی ہے تو سب نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔ مقلوبہ فلسطینی پلاؤ ہے اور نہایت لذیذ ہوتا ہے۔ اس میں تہہ کئے ہوئے بینگن‘ اُن کے اوپر چاولوں اور اُن کے اوپر گوشت کی تہہ ہوتی ہے۔ گویا تہہ در تہہ گوشت‘ بینگنوں اور آلوؤں کے قتلے ہوتے ہیں۔ دم دینے کے بعد دیگچے یا کُکر کو ڈش میں الٹ دیا جاتا ہے۔ اسی لیے اس پلاؤ کو مقلوبہ کہتے ہیں۔ مقلوبہ کا لفظ انقلاب سے نکلا ہے؛ یعنی الٹا دینا۔
لاہور کی ایک بڑی یونیورسٹی میں ڈینٹسٹری کے شعبے میں ہاؤس جاب کرنے والی نور صقر نے فلسطینی طلبہ وطالبات کی ترجمانی کرتے ہوئے انگریزی میں مختصر تقریر کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان آ کر ہمیں ایک روز کے لیے بھی اجنبیت کا احساس نہیں ہوا۔ ڈینٹسٹری میں ہمارے پروفیسر اعلیٰ معیار کے ہیں‘ وہ پروفیشنل مہارت اور مروت و شفقت کے ساتھ طب کے اس شعبے کا ہنر ہمیں سکھاتے ہیں۔
غزہ کی دوسری سٹوڈنٹ لینا اشبر نے کمال ہنرمندی کے ساتھ اپنی طرف سے‘ اپنے والدین اور اہلِ غزہ کی طرف سے اہلِ پاکستان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ لینا لاہور کی ایک یونیورسٹی کے شعبۂ انگریزی سے لسانیات میں ایم فل کر رہی ہیں۔ اُن کی تقریر سے عیاں تھا کہ انگریزی پر اُن کی گرفت مضبوط ہے۔ دورانِ افطار میں نے منتظمین سے فلسطینی طلبہ و طالبات کی پاکستان آمد اور یہاں کی جامعات میں حصولِ تعلیم کے بارے میں سوال کیا۔ بتایا گیا کہ غزہ میں اکتوبر 2023ء سے آغازِ جنگ کے ساتھ ہی وہاں پر ریلیف ورک کو تیز تر کر دیا گیا تھا اور سخت ترین اسرائیلی رکاوٹوں کے سبب وہاں خوراک اور ادویات پہنچانے کا براستہ قاہرہ نیٹ ورک قائم کیا گیا تھا۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ فلسطینی نہایت ذوق و شوق کے ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ وہاں 24 لاکھ کی آبادی کے لیے اعلیٰ تعلیم کے 12سے اوپر ادارے تھے۔ تین بڑی یونیورسٹیاں تھیں۔ ازہر اور اسلامک یونیورسٹی میں دو بڑے میڈیکل کالجز تھے۔ اعلیٰ تعلیم کے ان اداروں میں تقریباً 90 ہزار طلبہ وطالبات زیر تعلیم تھے۔ یہ سارے ادارے جنگ کے دوران اسرائیل نے تباہ کر دیے۔ لہٰذابیرونِ غزہ مقیم فلسطینیوں اور مصری حکومت اور وہاں کی ہیومن رائٹس تنظیموں کے ساتھ پہلے مرحلے پر میڈیکل کالجوں کے فورتھ اور فائنل ایئر کے طلبہ وطالبات کو پاکستان کے میڈیکل کالجوں میں داخلہ دلوانے کا پروگرام بنایا گیا۔ طلبہ وطالبات کے ویزوں کے ضمن میں حکومت پاکستان نے تعاون کیا۔ لاہور اور اسلام آباد کے دو تین میڈیکل کالجوں نے شعبۂ طب کے ان فلسطینی سٹوڈنٹس کو نہ صرف داخلہ دیا بلکہ ٹیوشن فیس کے بارے میں بھی فراخدلانہ تعاون پیش کیا۔ حوصلہ افزائی کی بنا پر طب کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی غزہ کے طلبہ وطالبات کو داخلہ دے دیا گیا ہے۔
کراچی کے سابق میئر نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ‘ فلاحی تنظیم کے صدر بھی رہے‘ نے دیانت و خدمت کی اعلیٰ روایات قائم کی تھیں۔ وہ دو تین بار صحرائے سینا عبور کر کے اپنے ساتھ خوراک و ادویات کے ٹرکوں کے کانوائے لے کر گئے تھے۔ اُن کو غزہ میں داخل نہ ہونے دیا گیا؛ البتہ بہ ہزار دقت ٹرکوں کو کئی دن روک کر بالآخر غزہ میں داخل ہونے دیا گیا۔
اس ملاقات میں فلسطینی طلبہ وطالبات سے تبادلۂ خیال کا موقع ملا تو انہوں نے عربی زبان سے میری شُدبُد کو ”عربی دانی‘‘ قرار دیا۔ میں نے انہیں بتایا کہ طائف میں اس طالب علم نے آپ کے آبا ہی سے عربی سیکھی تھی۔ سعودی وزارتِ تعلیم کے میرے فلسطینی دوست عربی زبان وادب کا نہایت اعلیٰ ذوق رکھتے تھے۔ عربی میں بے تکلف گفتگو کے دوران فلسطینی طلبہ نے پاکستان کی خوبصورتی اور ترقی کے بارے میں بہت ہی اچھے خیالات کا اظہار کیا؛ تاہم انہوں نے اہلِ پاکستان کے حسنِ طبیعت اور مسجد اقصیٰ کے لیے ان کی محبت وتڑپ کی بھی بہت تعریف کی۔ دو تین طالبات نے مجھے بتایا کہ اگر ہم پاکستانی طالبات یا خاتون پروفیسرز کے ساتھ کہیں شاپنگ کے لیے جائیں اور دکانداروں کو ہمارے لہجے سے معلوم ہو جائے کہ ہمارا تعلق ارضِ فلسطین سے ہے تو وہ دیدہ ودل فراش راہ کر دیتے اور نہایت احترام سے پیش آتے ہیں۔
اپنی تقریر کے آخر میں جب میں نے مسجد اقصیٰ کے بارے میں اردو کے یہ اشعار اور اُن کا عربی ترجمہ سنایا تو فلسطینی طلبہ وطالبات تادیر تالیاں بجاتے رہے:
انبیاء کا مبارک وہ مسکن ہوں میں
صرف مسکن نہیں اُن کا مدفن ہوں میں
خون سے پھر بھی دیکھو میں رنگین ہوں
میں فلسطین ہوں‘ میں فلسطین ہوں

اپنا تبصرہ بھیجیں