یومِ پاکستان کی قومی پریڈ: تاریخ، روایت اور قومی عزم کا اظہار

آغا سفیرحسین کاظمی،چیئرمین شہدائے وطن میڈیا سیل

یومِ پاکستان 23 مارچ پاکستان کی قومی تاریخ کا ایک انتہائی اہم دن ہے۔ اسی دن 1940ء میں لاہور کے تاریخی اجتماع میں قراردادِ پاکستان منظور کی گئی جس نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے قیام کی بنیاد فراہم کی۔ اسی تاریخی اہمیت کے پیش نظر ہر سال 23 مارچ کو ملک بھر میں یومِ پاکستان قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس دن کی تقریبات کا سب سے نمایاں اور باوقار حصہ قومی فوجی پریڈ ہوتی ہے جو پاکستان کی عسکری صلاحیت، قومی یکجہتی اور ریاستی وقار کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

یومِ پاکستان پر فوجی پریڈ کی روایت پاکستان کے ابتدائی ریاستی دور میں شروع ہوئی۔ 23 مارچ 1956 کو جب پاکستان نے اپنا پہلا آئین نافذ کیا اور خود کو باضابطہ طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان قرار دیا تو اس دن کو سرکاری سطح پر یومِ جمہوریہ کے طور پر منایا گیا اور اسی دور میں فوجی پریڈ کی روایت کو باقاعدہ شکل دی گئی۔ ابتدا میں یہ پریڈ کراچی اور بعد ازاں راولپنڈی میں منعقد ہوتی رہی، جبکہ 1960 کی دہائی میں دارالحکومت اسلام آباد منتقل ہونے کے بعد یہ تقریب وہاں باقاعدگی سے منعقد ہونے لگی۔ اس پریڈ کا بنیادی مقصد مسلح افواج کے نظم و ضبط، پیشہ ورانہ مہارت اور دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا اور قوم کو یہ پیغام دینا تھا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط عسکری قوت رکھتا ہے۔

قومی پریڈ کے دوران بری فوج، بحریہ اور فضائیہ کے دستے شاندار مارچ پاسٹ پیش کرتے ہیں جبکہ جدید دفاعی سازوسامان، میزائل سسٹمز اور فضائی مظاہرے بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ اس تقریب میں ملک کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت کے علاوہ غیر ملکی سفارتکار اور معزز مہمان بھی شریک ہوتے ہیں۔ یوں یہ پریڈ صرف ایک عسکری مظاہرہ نہیں بلکہ پاکستان کی قومی شناخت، ریاستی وقار اور دفاعی عزم کی علامت بن چکی ہے۔

اگرچہ یہ روایت مسلسل جاری رہی، تاہم تاریخ میں چند مواقع ایسے بھی آئے جب غیر معمولی حالات کے باعث اس پریڈ کو منسوخ یا محدود کرنا پڑا۔ مثال کے طور پر 1971 کی جنگ اور سقوطِ ڈھاکہ کے بعد 1972 میں قومی حالات کے پیش نظر یہ تقریب منعقد نہیں کی گئی۔ اسی طرح بعض سیاسی بحرانوں یا سکیورٹی خدشات کے باعث بھی مختلف ادوار میں اس کی نوعیت محدود رہی۔ خاص طور پر 2008 سے 2014 تک دہشت گردی کے خطرات کے باعث روایتی پریڈ منعقد نہیں ہو سکی اور اس کی جگہ محدود تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ تاہم 2015 میں ایک مرتبہ پھر اسلام آباد میں پورے اہتمام کے ساتھ پریڈ کا انعقاد کیا گیا جسے دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کے اظہار کے طور پر دیکھا گیا۔

آج کے حالات میں جب ملک کے اندر دہشت گردی کے خلاف سکیورٹی فورسز کے آپریشنز جاری ہیں اور سرحدی علاقوں میں بھی مختلف چیلنجز درپیش ہیں تو یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا ایسے حالات میں قومی پریڈ کا انعقاد مناسب ہے یا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ایسے مواقع پر قومی تقریبات کو منسوخ کر دیا جائے تو اس سے کمزوری کا تاثر پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ اس کے برعکس اگر پریڈ کا انعقاد تسلسل کے ساتھ کیا جائے تو یہ دنیا اور دشمن عناصر کو یہ واضح پیغام دیتا ہے کہ پاکستان ایک مضبوط اور پراعتماد ریاست ہے جو ہر حال میں اپنی قومی روایات اور دفاعی عزم کو برقرار رکھتی ہے۔

مزید یہ کہ اگر یومِ پاکستان کی پریڈ میں دفاعِ وطن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدائے وطن کے لواحقین کو خصوصی طور پر مدعو کیا جاتاہے جس سے نہایت مثبت اور باوقار تاثر پیدا ہوتا ہے۔ اس اقدام سے یہ پیغام ملے گا کہ پاکستان کی ریاست اور قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو نہ صرف یاد رکھتی ہے بلکہ ان کے خاندانوں کو عزت اور احترام کے ساتھ قومی تقریبات کا حصہ بھی بناتی ہے۔ اس طرح پریڈ صرف عسکری قوت کے مظاہرے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ قربانی، احترام اور قومی یکجہتی کی علامت بھی بن جائے گی۔

یومِ پاکستان کی تقریبات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس موقع پر مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو قومی اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔ ہر سال 23 مارچ کو ایوانِ صدر میں ایک باوقار تقریب منعقد ہوتی ہے جس میں صدرِ پاکستان ملک و قوم کے لیے نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو نشانِ امتیاز، ہلالِ امتیاز، ستارہ امتیاز اور تمغہ امتیاز جیسے اعلیٰ سول اعزازات عطا کرتے ہیں۔ ان اعزازات کا مقصد ملک کی ترقی، خدمت اور قومی وقار کے لیے کام کرنے والی شخصیات کی حوصلہ افزائی کرنا اور معاشرے میں قومی خدمت کے جذبے کو فروغ دینا ہوتا ہے۔

ان تمام حقائق کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یومِ پاکستان کی قومی پریڈ محض ایک تقریب نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ، دفاعی طاقت، قومی وحدت اور ریاستی وقار کی علامت ہے۔ یہ تقریب قوم کو اپنے ماضی کی یاد دلاتی ہے، حال میں اعتماد پیدا کرتی ہے اور مستقبل کے لیے امید اور عزم کو مضبوط بناتی ہے۔ اسی لیے یومِ پاکستان کی قومی پریڈ کا تسلسل دراصل ایک مضبوط، باوقار اور پرعزم پاکستان کی علامت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں