اے آر طارق
بانی پی ٹی آئی آنکھ کا مسئلہ آج کل ہر طرف زیر بحث ہے۔اپوزیشن بالخصوص پی ٹی آئی اس پر سراپا احتجاج ہے۔ پورے ملک خاص طور پر خیبر پختون خواہ میں اس پر احتجاج جاری ہے۔اقتدار کی غلام گردشوں میں بھی ایک ہی گونج سنائی دے رہی ہے۔ بانی بانی اور آنکھ۔اب تو معاملہ اس سے بھی آگے بڑھ گیا ہے۔بات ملک سے نکل کر بیرون ممالک تک جا پہنچی ہے۔ سیاست دانوں سے لے کر کرکٹرز تک بانی کی صحت کے حوالے سے فکر مند ہیں اور صحت سہولتوں کی بانی تک رسائی کا مطالبہ کررہے ہیں. اپوزیشن اس احتجاج کو اپنا آئینی حق سمجھتی ہے جبکہ حکومت اسے انتشار پھیلانے اور ڈرامہ کرنیکی ایک صورت قرار دے رہی ہے۔ہمارے ملک میں یہ رواج ہے کہ جو حکومت میں ہو وہ مانتا نہیں ہے اور جو اپوزیشن میں ہو اس کی سنتا کوئی نہیں ہے۔یہاں پر یہ صورتحال ہے کہ یہ سب حکومت اور اپوزیشن رچایا کھیل تماشہ ہے۔سبھی جانتے ہیں کہ کس وقت اور کیا کرنا ہے۔اس وقت ملکی حالات انتہائی نازک ہیں۔ملک بھر میں اس وقت بلوچستان سے لے کر خیبر پختون خواہ تک’ گلگت بلبستان سے آزاد کشمیر تک کچھ بھی تو ٹھیک نہیں چل رہا۔تیرا وادی خون آلود ہے۔ بلوچستان جل رہا ہے۔گلگت بلبستان بھڑکا پڑا ہے۔ یہاں تو دارالحکومت اسلام آباد خیر نام کو نہیں ہے۔جدھر دیکھیں حکومتی وعسکری حماقتیں اور بے بسیاں نمایاں ہیں۔نہ جانے وہ کون سی نظر ہے جو صرف پاکستان کو لگی ہوئی ہے کہ اسرائیل امریکہ ہمارے اوپر سر چڑھ کر بول رہا ہے اور ہم ہیں کہ سرحدی پہاڑی علاقوں سے لے کر بسی بسائی انسانی وادیوں تک سب کچھ ایک اغیار کی تھپکی اور خواہش پر برباد اور ویران کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور تو اور فلسطین امن کے نام پر سمیت سپاہ بے امن ہونے چلے ہیں اور یہ سب کچھ کیوں کیے چلے جارہے ہیں اور کچھ بھی نہیں ہے کہ اقتدار کی مزید ہوس اور ڈالروں کی چمک کا نتیجہ ہے۔ وادی تیرہ سے بلوچستان تک اس کے کیے کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ آنے والے چند ماہ میں روز روشن کی طرح عیاں ہو جائیں گے۔ راقم الحروف کے مطابق اس وقت ملک میں جو نازک صورتحال ہے نظر انداز کرنے والی نہیں ہے۔خدشہ ہے کہ دہشت گردی کے نام پر شروع اس فتنہ الہند’ فتنہ الخوارج آپریشن میں امریکی و اسرائیلی افراد اور ایجنٹ ہی شامل نہ ہو جائیں۔اس آپریشن کا انجام اچھا نظر نہیں آرہا۔کہیں ہم جانے انجانے میں بلوچستان کی آگ بھڑکانے کا سبب نہ بن جائیں کہ فائدہ ملے نہ الٹا نقصان میں چلے جائیں۔یاد رہے دشمن یہی چاہتا ہے اور اسی کا ہی خدشہ ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک کوئی بھی دہشت گردی معاملہ ہو۔ اس میں ہمیشہ بھارتی اسرائیلی اور امریکی کردار لازمی ہوتا ہے اور اس حقیقت کو جھٹلانا ممکن نہیں ہے.اگر ہمیں حقیقی ملکی ترقی چاہیے تو ہماری طاق میں بیٹھا’ ہمارے وسائل پر نظر گاڑھے۔ہمیں کمزور دیکھنے کے خواہشمند اسرائیل و امریکہ سے چھٹکارا پانا ہوگا۔یہ ملکی بہتری اور قبائلی علاقوں میں امن کے قیام کے لیے بے حد ضروری عمل ہے اس کے علاوہ ہر راستہ ہر طریقہ انتشار اور فساد کی طرف جائے گا اور امن ہرگز ممکن نہیں ہو سکتا۔اس وقت ہمیں چکنا رہنے کی ضرورت ہے مگر ہم ہیں کہ آگ اور خون کا کھیل رچائے ہوئے ہیں اور سمجھتے نہیں ہیں کہ افغانستان ہو یا کوئی اور ہمسایہ ملک۔بھارت اسرائیل امریکہ ہمارا کبھی بھی خیر خواہ نہیں رہا ہے۔ وہ تو چاہتا ہے کہ اس فتنے کو ہوا ملے اور وہ اپنی موجودگی کا پاکستان میں جواز بنا سکے۔ وہ پاکستان میں مختلف صورتوں را،’موساد،سی آئی اے شکلوں میں اب بھی کہیں نہ کہیں موجود ہے کہ معاملہ اتنا ابتر نظر آرہا ہے کہ ملک عزیز میں خیر مانگنے سے بھی نہیں مل رہی۔ اس وقت جو آگ بلوچستان اور تیرہ آبادی یا دیگر جگہوں پر پھیلی ہوئی ہے یقینا اسرائیل امریکہ کارستانی کا شاخسانہ زیادہ لگتا ہے اور بدقسمتی سے ہمارا حال آقا اور غلام جیسا ہے جو حکم ملے سر آنکھوں پر۔ ہم میں تو اتنی بھی عقل نہیں ہے کہ حالات کی سنگینی اور نزاکت کو ہی سمجھ سکے کہ معاملہ کتنا بگڑا ہوا ہے۔ اپنوں سے بات چیت میں ہی امن ہے اور غیروں کی چاکری میں دھوکہ ہی دھوکہ اور ہم ہیں کہ اپنوں پر ستم اور غیروں پر کرم کا ہاتھ رکھتے ہیں۔پاک بھارت جنگ ہو یا غزہ امن معاہدہ تاریخ شاہد ہے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔امریکہ و اسرائیل کے ہوش منت سماجت سے یا ان سے ڈرنے سے نہیں ان کے خلاف لڑنے اور ان کی مرمت سے ہی بہتر ہوئے ہیں. پتہ نہیں ہے کہ ہمیں کیا ہو گیا ہے اور ہم کہاں بھٹکے چلے جا رہے ہیں کہ اسرائیل و امریکہ کے فریب دوستی یا ڈر اسرائیل و امریکہ میں مبتلا ہے اور مزاحمت کی بجائے مفاہمت کی باتیں کرتے ہیں۔جہاد کو چھوڑ کر بزدلی کے راستے پر چل پڑے ہیں جس میں ذلت و رسوائی ہمارا مقدر ٹہری ہے. آخر کیا وجہ بنی ہے کہ ہماری حکومت کو بلوچستان میں فضائی آپریشن کرنے کی بات کرنا پڑ رہی ہے. نہ جانے کہاں کہاں سے اور کون کون مدد کے لیے آ رہا ہے. کیا ہم سمجھتے ہیں کہ اسرائیل و امریکہ ہمارا دفاع کرے گا۔ ہرگز نہیں.وہ تو اپنے مفادات کے پجاری ہیں اور پاکستانی وسائل کے درپے ہیں اسے پانے کی دل میں شدید تمنا رکھتے ہیں کہ مدد اور تعاون کی آڑ میں پاکستان کو برباد کریہ گے یا شاید کہ اس کی صورت میں اپنا غلام بنانے کا ارادہ ہے۔امریکہ سمجھتا ہے کہ یہ ہمارے ہمیشگی غلام ہیں اور اسٹیبلشمنٹ ان کی آلہ کار۔ ایسے میں اگر قربانی پر ذبح کرنے کی غرض سے آئے یا لائے بکرے کی کوئی بیرون دنیاتعریف کر دے تو اس میں بھی خوشامد کرنے والا اپنا ہی سواد ڈھونڈتا ہے دوسروں کا بھلا یا مفاد بالکل بھی نہیں. امریکی صدر ٹرمپ کے پاک بھارت جنگ پر بیانات۔ تبصرے ‘چٹکلے ”بھارتی طیاروں کی تباہی کی باتیں اور بے شرمی کی حد تک اپنی بات پر شدید اصرار دال میں کچھ نہیں سب کالا دکھاتا ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ امریکہ نے کبھی بھی پاکستانی حکمرانوں ‘ جرنیلوں کو عزت نہیں دی.اب کے بار پاکستانی حکمرانوں ‘ جرنیلوں کی شان میں قصیدے بتاتے ہیں کہ ہمیشگی غلامی میں جانے کا عہد و پیمان ہو چلا ہے کہ ٹرمپ بھی” تم بھی پاگل” ” میں بھی پاگل” کی عملی تصویر بنے نظر آتے ہیں۔ کبھی کچھ اور کبھی کچھ بتاتے سناتے پھر رہے ہیں۔ بھارتی طیاروں کی گرنے کی فلم جتنی شد و مد سے یہ بیان کرتے ہیں اور جنگ روک دینے کا حوالہ دیتے ہیں۔کبھی دو،کبھی چار،کبھی سات اور اب گیارہ بھارتی طیارے تک گرا چکے ہیں۔حقیقت کیا اللہ ہی بہتر جانتا ہے مگر ٹرمپ کے منہ سے ایسی باتیں حقیقت سے زیادہ فریب لگتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ ہم سے کوئی کام لے رہا یا لینا چاہتا ہے کہ ان پاکستانیوں کو جن کو وہ منہ بھی نہیں لگاتا’ اب ان کے قصیدے گانے پر مجبور ہے.ٹرمپ ہمارے مایہ ناز جنرل آرمی چیف عاصم منیر کے بڑے فین ہیں۔ ان کی بہادری کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔کیا ان کے لیے یہ نہیں کر سکتے کہ بھارت سے ان کے لیے ان کی جرات و بہادری کی خدمات کے اعتراف میں ان کا ”اشوک چکر” تمغہ ہی ان کو دلوا دیں.ان کی طرف سے ان کے لیے آفیشلی ”فیلڈ مارشل” لقب کا اعلان اور بھارتی ہار کا اظہار ہی کروا دیں اور تو اور تمام دنیا کے ممالک سے آفیشلی طور پر عاصم منیر کو فیلڈ مارشل اعزاز دلوا دیں۔کیا مسٹر ٹرمپ یہ کریں گے یا کر سکتے ہیں یا دنیا مانے گی. اہم سوال یہ ہے وگرنہ ٹرمپ کی باتیں دل بہلانے کے لیے غالب خیال اچھا ہے اس کے علاوہ اور کچھ حیثیت نہیں رکھتی ہیں۔ نہ جانے ٹرمپ کے وہ کیا خواب ہیں یا کیا ارادے ہیں کہ نصف سینچری جتنی بار بار تکرار کی طرح ایک ہی طیارے تباہی بات دہرائے جا رہے ہیں۔ یہ چیز ٹرمپ کے معیار کو کس حد تک بڑھا رہی ہے کا تو پتہ نہیں مگر پاکستانی کردار ضرور مشکوک بنا رہی ہے۔آخر کیا مصیبت آن پڑی ہے کہ سپر پاور امریکا بالخصوص امریکی صدر ٹرمپ بھی پاک بھارت جنگ اور پاکستان کے ہاتھوں بھارتی طیاروں کی تباہی کی خبروں کے حصار سے ہی باہر نہیں نکل رہے اوریہ بار بار بتا رہے ہیں۔کیا ان کو اپنی بات پر یقین نہیں ہے یا معاملہ کچھ اور ہے جس کی بار بار پردہ داری ضروری ہے کہ ٹرمپ کو یہ بیان دینے کے لیے بار بارمیڈیا کے میدان میں کودنا پڑتا ہے اور پھر بھارت کی اس پر معنی خیز خاموشی بھی کسی بڑے راز کا پول کھول رہی ہے کہ کچھ تو ضرور ہے اس بات میں ورنہ بات تو ایک بار بھی مقام رکھتی ہے۔ دراصل امریکہ و اسرائیل پاکستان میں اپنے مفادات کے لیے گھسنا چاہتا ہے اور ہم اسے یہ موقع دے رہے ہیں۔ نہ جانے کس قیمت پر اور کیوں اور کس لیے۔اس کے نتائج اچھے نہیں نکلیں گے. ملک میں افرا تفری کی فضا بنے گی۔ بلوچستان جل رہا ہے اور یہ اگ اور بڑھکے گی اور یوں ملک کے گوشے گوشے میں اس بھیانک صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے. میں یہ بات اس لیے کر رہا ہوں کہ جب جب بھی ملک پر ایسا نازک مقام آیا ہے تو اس کا نتیجہ ہم نے برا ہی بھکتا ہے ہمیشہ اپنا ہی نقصان کیا ہے اور پھر اپنے ہی زخم چاٹتے پھرتے ادھر ادھر گھومتے رہتے ہیں۔ ایسے میں پھر جب کچھ سہارا نہیں ملتا تو پھر” یہ کر دیا وہ کر دیا” فلم سنانا ہی آخری کنارہ رہ جاتا ہے۔ تاریخ جانتی ہے کہ بلوچستان ہو یا خیبر پختون خواہ ‘گلگت بلتستان ہو یا آزاد کشمیر آخری کنارہ ہی ہماری منزل ہے جس میں غم و الم کی ندیاں بہتی نظر آتی ہیں مگر خوشی کا کوئی عنصر نمایاں نہیں ہوتا۔ افسوس اس غم و الم کو قلوب و ارواح سے ہٹانے کے لیے ہمیں خوشی کا تازیانہ خود سے ہی بجانا پڑتا ہے اور یہ صورتحال واقفان حال کے مطابق حوصلہ افزا نہیں مقام عبرت ہے۔ خوشحال ترقی یافتہ پاکستان کے لیے ہمیں امریکی واسرائیلی حصار سے نکلنا ہوگا اور رہی بات بھارت کی تو وہ پھر خود ہی سے دم توڑ جائے گا. ایسے میں ہمیں افغانستان سے بھی سکھ کا سانس ملے گا اور چین بھی ہمارے ہاتھ میں رہے گا۔ اس کے علاوہ اختیار کیا گیا ہر راستہ تباہی کی طرف جائے گا اور دوستوں میں دراڑ کا سبب بنے گا۔ ہو سکتا ہے کہ شدید ناراضگی کا باعث بھی بن جائے۔ پنجابی سندھی پٹھان بلوچ اس پرچم کے سائے تلے ایک کرنا ہوں گے۔امریکی و اسرائیلی سے بچنا ہوگا۔ ان کی چاکری پاکستان پر ظلم ہے. پاکستانی رعایا امریکہ اسرائیل بھارت کے حوالے سے اچھے جذبات نہیں رکھتی اور یہ ٹھیک عمل ہے کہ امریکہ اسرائیل اس قابل بھی نہیں ہے اور قابل اعتبار بھی نہیں. ان سے کچھ بعید نہیں کہ یہ وار کرنے سے نہیں چوکتے اور بد عہدی اور ظلم ان کی گٹھی میں بھرا ہوا ہے۔ اگر کہا جائے کہ ظلم و ستم کا دوسرا نام امریکہ و اسرائیل ہے تو بے جا نہ ہوگا۔امریکہ کی طرف سے کیا گیا 21 نکاتی غزہ امن معاہدہ بھی دراصل مسلمانوں کو دیا ہوا ایک خوشنما فریب ہے جس کی حقیقت بہت جلد سامنے آجائے گی کہ کس اسلامی ملک نے کیا اور کیسا کردار ادا کیا ہے اور اس ہولناک معاہدے کے اثرات بد بھی سب کے سامنے آجائیں گے۔ بات ہو رہی تھی عمران خان کی آنکھ اور حکومتی پریشانی کی تو عرض یہ ہے کہ پاکستانی سرکار سابق وزیراعظم عمران خان کا عدم اعتماد کروا کر اور بعد ازاں ان کو سائفر ‘توشہ خانہ’ القادر ٹرسٹ” نو مئی جھوٹے کیسز کی آڑ میں پابند سلاسل تو کر گئی ہے مگر اب جیل میں بھی عمران خان کو سنبھالنے سے مکمل عاری ہوتی جا رہی ہے۔عمران پہلے باہر تھے تو قابو سے باہر تھے اور اب جیل میں ہیں تو قید کرنے والوں کو حقیقی جیل میں کرتے زیادہ نظر آتے ہیں۔عمران خان باہر بھی ان کے لیے خوفناک تھے اور اب جیل میں بھی ان کے لیے ایک ڈراونا خواب بنے ہوئے ہیں۔ آٹھ فروری 2026 کا عوامی احتجاج بھرپور تھا پنجاب میں پتنگ بازی کا ذریعہ بن گیا۔عمران خان کی صورتحال کی سمت کا تعین کرنے ہی والا تھا کہ عمران خان کے ساتھ کیا کیا جائے کہ ان کی آڈیالہ سے ان کے گھر بنی گالہ منتقلی یا رہائی کا پروانہ دونوں صورتیں زیر غور ہیں۔ویسے کچھ نہ بھی ہوا تو جلد یا بدیر عمران خان عدالتوں سے بھی بخوبی اور باسانی سرخرو ہوتے نظر آتے ہیں۔ اب تک ان کی رہائی میں رکاوٹ ان کے کیسز کا عدالتوں میں نہ لگنا ہے اور یہ بات حکومت وقت بھی جانتی ہے اور ان کے چیلے چانٹے بھی. یہی بات حکومتی پریشانی کا اصل سبب ہے کہ انتہائی عجلت اور بے بسی میں سمجھ نہیں پا رہی کہ کون سا راستہ درست اور لاج برقرار رکھ لینے والا. عمران خان کی جیل سے بنی گالہ منتقلی یا رہائی دونوں ممکن ہے مگر اس کے بعد کیا ہوگا. حکومت پریشانی کا اصل معاملہ یہ ہے. حکومت جانتی ہے کہ عمران خان ہم سے پابند سلاسل حالت میں قابو میں نہیں آیا۔ آزاد ہو گیا تو کتنا خطرناک ہوگا۔یاد رہے عمران خان کی رہائی میں کوئی پارٹی ورکر یا ان کی بہن رکاوٹ نہیں حکومت خود ہے۔ گل جانے یا نہ جانے باغ سارا جانے۔ حکومت عمران خان کو ریلیف نہیں ان سے جان چھڑانے کی خواہش مند نظر آتی ہے مگر عمران خان وطن چھوڑنے کے لیے اور میڈیکل گراؤنڈ پر رہائی کے لیے تیار نہیں ہیں اور امریکی ڈکٹیشن بھی مانتے نہیں ہیں تو ایسے میں ان کی ان کے گھر بنی گالہ منتقلی تو ہو سکتی ہے مگر رہائی لٹکتی ہوئی نظر آتی ہے۔ امریکن صدر ٹرمپ جن سے عمران پارٹی کو بڑی امیدیں وابستہ تھیں بھی اب امریکن مفادات کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ وہ بھی سمجھتے ہیں کہ عمران ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔امریکی احکامات نہیں مانیں گے اس لیے اب امریکی ایجنسی سی ائی اے کے دباؤ میں عمران سے ہاتھ اٹھا چکے ہیں اور اور موجودہ سول وعسکری ذمہ داروں پر رکھ چکے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ ہمارے غلام ہیں احکامات بچا لائیں گے۔اس وقت ملک میں بڑی بے چینی پائی جاتی ہے کہ سول وعسکری قیادت تبدیل ہو مگر مسئلہ یہ ہے کہ اب تک کے جتنے بھی پاک امریکہ ”شاندار“معاہدے تشکیل پائے ہیں ان کے بینیفیشری موجودہ حکومت سرکار کے لوگ ہیں۔ان کی تبدیلی تمام پاک امریکہ معاہدوں کو سبوتاژ کرنے والی بات ہے۔اس لیے امریکہ سرکار سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی میں سنجیدہ بھی نہیں ہے اور دلچسپی بھی نہیں رکھتی ہے اور یہی ایک بات حکمران ٹولے کے مفاد میں جاتی ہے وگرنہ ملک کے طول و عرض میں اس ٹولے بارے حالات اور عوامی ذہن خراب ہو چکے ہیں۔ اخلاقی دوالیہ پن کا جنازہ نکل چکا ہے بس تدفین باقی ہے
artariq2018@gmail.com
03024080369

