صوبائی ایکشن پلان کے دوسرے مرحلے کے تحت بلوچستان کیلئے 10 سالہ جامع منصوبہ تیار

کوئٹہ(این این آئی) وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے کہا ہے کہ صوبائی ایکشن پلان کے دوسرے مرحلے کے تحت بلوچستان کے لیے 10 سالہ جامع منصوبہ تیار کیا گیا ہے جس کا حجم چار ٹریلین روپے سے زائد ہے اور اس کے نتیجے میں سات لاکھ سے زائد براہِ راست روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہد رند نے بتایا کہ صوبائی کابینہ کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیراعلیٰ نے خطے کی صورتحال اور وزیراعظم کی جانب سے کیے گئے قومی فیصلوں کے حوالے سے کابینہ کو اعتماد میں لیا۔ اجلاس میں گورنر بلوچستان، اسپیکر بلوچستان اسمبلی، سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنما اور پارلیمانی سیکرٹریز بھی شریک ہوئے۔شاہد رند کے مطابق صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی اونرشپ کے ساتھ لڑنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، اسی تناظر میں صوبائی ایکشن پلان کے دوسرے مرحلے کے لیے 10 سالہ منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے جس میں صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی اور عسکری اداروں کی آراء بھی شامل کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں صوبے کے مستقبل کے لیے جامع روڈ میپ دیا گیا ہے اور عوامی مفاد کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ منصوبے میں روزگار کی فراہمی کو خصوصی ترجیح دی گئی ہے اور اس کے ذریعے سات لاکھ سے زائد براہِ راست ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔ان کا کہنا تھا کہ منصوبے کی مجموعی لاگت چار ٹریلین روپے سے زیادہ ہے جس میں وفاقی فنڈز کے علاوہ تقریباً آٹھ فیصد فنڈنگ غیر ملکی ذرائع سے حاصل کی جائے گی۔شاہد رند نے مزید کہا کہ منصوبے پر بلوچستان کابینہ میں تفصیلی بحث کے بعد اسے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا جبکہ بعد ازاں بلوچستان اسمبلی میں بھی اس پر بحث ہوگی۔ ان کے مطابق منصوبے کا مکمل مسودہ سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کے ساتھ شیئر کیا جائے گا تاکہ سیاسی اور عسکری سطح پر اس حوالے سے اعتماد سازی کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس منصوبے سے بلوچستان میں پائیدار امن اور ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں