ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے اور آبنائے ہرمز کی بندش عالمی امن اور معیشت کیلئے سنگین خطرہ ہیں، سینیٹر محمد عبدالقادر

کوئٹہ(این این آئی)چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے اپنے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری فضائی اور میزائل حملوں نے مشرقِ وسطیٰ کو شدید عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے۔ اس کشیدگی کا سب سے بڑا اثر خلیج فارس کی انتہائی اہم سمندری گزرگاہ، آبنائے ہرمز، پر پڑ رہا ہے۔ حالیہ بمباری اور فوجی سرگرمیوں کے باعث اس اسٹریٹیجک راستے میں جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے. آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً ایک تہائی سمندری تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے یہاں پیدا ہونے والی کسی بھی رکاوٹ کے فوری عالمی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور بمباری کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے نہ صرف عالمی معیشت کو متاثر کیا ہے بلکہ ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی سنگین معاشی مسائل پیدا کر دیے ہیں۔ جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ ان کی معیشت بڑی حد تک درآمدی توانائی پر انحصار کرتی ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے مزید کہا ہے کہ پاکستان بھی اس بحران کے اثرات سے محفوظ نہیں رہا۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہو رہی ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرایوں، بجلی کی پیداواری لاگت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر عام شہریوں کی زندگی پر پڑ رہا ہے۔ یہ جنگ طویل ہو گئی تو مہنگائی کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے اور پاکستان سمیت کئی ممالک کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ عالمی برادری اس خطرناک صورتحال کا فوری نوٹس لے اور خطے میں کشیدگی ختم کرنے کیلئے سفارتی کوششیں تیز کرے۔ امریکہ اور اسرائیل کو ایران پر حملوں کا سلسلہ فوری طور پر روکنا ہوگا تاکہ آبنائے ہرمز میں استحکام بحال ہو سکے اور عالمی توانائی کی ترسیل معمول پر آ سکے۔ جنگ طول پکڑتی ہے تو نہ صرف عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگے گا بلکہ خطے میں سیاسی و انسانی بحران بھی گہرا ہوتا جائے گا امن کے حصول کیلئے مذاکرات ہی اس بحران سے نکلنے کا واحد پائیدار حل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں