سانچ: پٹرول مہنگا، زندگی مہنگی: مہنگائی کے نئے طوفان کی کہانی

تحریر: محمد مظہررشید چودھری (03336963372)
پاکستان کی معیشت اس وقت ایک ایسے دباؤ سے گزر رہی ہے جس نے عام آدمی کی زندگی کو مسلسل مشکل بنا دیا ہے۔ پہلے ہی روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی تھیں، مگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ بڑا اضافہ اس دباؤ کو مزید شدت دے گیا ہے۔ 7 مارچ 2026 کو حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کر کے اسے 321 روپے سے تجاوز کرا دیا جبکہ ڈیزل کی قیمت بھی 335 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔ اس فیصلے نے صرف ایندھن ہی نہیں بلکہ پوری معیشت پر ایک نئی مہنگائی کی لہر مسلط کر دی ہے۔پٹرول کی قیمتوں میں یہ اضافہ کسی ایک شعبے تک محدود نہیں رہتا۔ اس کا اثر فوری طور پر ٹرانسپورٹ کے کرایوں، اشیائے خورونوش کی قیمتوں اور روزمرہ زندگی کے اخراجات پر پڑتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں سامان کی ترسیل کا بڑا حصہ سڑکوں کے ذریعے ہوتا ہے، وہاں ایندھن مہنگا ہونے کا مطلب ہے کہ ہر چیز مہنگی ہو جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی، لاہور، پشاور اور دیگر بڑے شہروں میں ٹرانسپورٹ کے کرایے فوری طور پر بڑھ گئے۔ رکشہ، ٹیکسی اور بس ڈرائیوروں نے اپنے اخراجات بڑھنے کا جواز پیش کرتے ہوئے مسافروں سے زیادہ کرایہ وصول کرنا شروع کر دیا۔سانچ کے قارئین کرام!یہ صورتحال صرف شہری علاقوں تک محدود نہیں۔ دیہی علاقوں میں بھی اس کے اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں۔ سبزی، پھل اور دیگر زرعی اجناس جب منڈیوں سے شہروں تک پہنچتی ہیں تو ان کی قیمت میں ٹرانسپورٹ کا خرچ شامل ہو جاتا ہے۔ پٹرول کی قیمت بڑھتے ہی سبزی منڈیوں میں نرخ تبدیل ہو گئے۔ ایک سبزی فروش کا کہنا تھا کہ جیسے ہی ایندھن مہنگا ہوتا ہے، سب سے پہلے ٹرانسپورٹ کا خرچ بڑھتا ہے اور پھر سبزیوں کی قیمت اوپر چلی جاتی ہے۔ یوں عام صارف کو دوہری مار برداشت کرنا پڑتی ہے۔اس سارے معاملے کا ایک اہم پہلو عالمی حالات بھی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران کے خلاف ہونے والی فوجی کارروائیوں نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے۔ خام تیل کی قیمت چند دنوں میں 78 ڈالر سے بڑھ کر 106 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ پاکستان جیسے درآمدی معیشت والے ملک کے لیے یہ اضافہ ایک بڑا معاشی چیلنج بن جاتا ہے کیونکہ ملک کی بڑی ضرورتیں بیرون ملک سے آنے والے تیل پر منحصر ہیں۔حکومت کا موقف یہ ہے کہ یہ اضافہ مجبوری کے تحت کیا گیا ہے۔ حکومتی نمائندوں کے مطابق اگر قیمتیں نہ بڑھائی جاتیں تو درآمدی بل اور زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ پڑتا۔ حکومت نے ساتھ ہی سرکاری اخراجات میں کمی اور ایندھن کی بچت کے لیے کچھ اقدامات کا اعلان بھی کیا ہے۔ ان میں سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں کمی، دفاتر کے اوقات میں تبدیلی اور بعض محکموں میں ورک فرام ہوم پالیسی شامل ہے۔ بظاہر یہ اقدامات قومی وسائل کی بچت کے لیے کیے گئے ہیں۔تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ اقدامات عوام کو براہ راست ریلیف فراہم کرتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ سرکاری اخراجات میں کمی سے شاید قومی خزانے پر دباؤ کم ہو جائے مگر اس کا فوری فائدہ عام شہری تک نہیں پہنچتا۔ جو شخص روزانہ رکشہ یا موٹر سائیکل پر سفر کرتا ہے، جو مزدور اپنی مزدوری سے گھر کا خرچ چلاتا ہے یا جو دکاندار مہنگے داموں سامان خرید کر فروخت کرتا ہے، اس کے لیے یہ فیصلے عملی ریلیف نہیں بن پاتے۔ماہرین معاشیات کا اندازہ ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں یہ اضافہ مہنگائی کی مجموعی شرح میں مزید اضافہ کرے گا۔ پاکستان میں مہنگائی پہلے ہی ایک حساس مسئلہ ہے اور جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو اس کا اثر بجلی، گیس اور ٹرانسپورٹ سمیت ہر شعبے پر پڑتا ہے۔ نتیجتاً عام آدمی کی قوت خرید مزید کم ہو جاتی ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو آئندہ چند مہینوں میں مہنگائی کی شرح مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ایسی صورتحال میں حکومت کے لیے سب سے اہم سوال یہی ہے کہ عوام کو کس طرح ریلیف دیا جائے۔ معاشی حقیقت یہ ہے کہ عالمی قیمتوں پر حکومت کا مکمل کنٹرول نہیں ہوتا، مگر داخلی سطح پر کچھ ایسے اقدامات ضرور کیے جا سکتے ہیں جو عوام کے لیے آسانی پیدا کریں۔ سب سے پہلے ٹارگٹڈ سبسڈی کا نظام مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ کم آمدنی والے خاندانوں کو نقد امداد یا ایندھن پر خصوصی رعایت فراہم کی جا سکتی ہے تاکہ ان کے بنیادی اخراجات میں کچھ کمی آ سکے۔اسی طرح پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بہتر بنانا بھی ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔ اگر شہریوں کو سستی اور معیاری پبلک ٹرانسپورٹ میسر ہو تو وہ ذاتی گاڑیوں پر کم انحصار کریں گے اور ایندھن کی مجموعی کھپت بھی کم ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو تیل کی درآمد کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ کسی ایک خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی پورے نظام کو متاثر نہ کر سکے۔طویل المدتی سطح پر پاکستان کے لیے توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف جانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ سولر، ہوا اور دیگر قابل تجدید توانائی کے منصوبوں پر تیزی سے کام کر کے نہ صرف ایندھن کی درآمد پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی زیادہ مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک اسی راستے پر چل کر توانائی کے بحران سے نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔سانچ کے قارئین کرام!آخرکار یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ مہنگائی صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی مسئلہ بھی بن جاتی ہے۔ جب ایک خاندان کے لیے روٹی، تعلیم اور علاج کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو جائے تو اس کا اثر معاشرتی استحکام پر بھی پڑتا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ معاشی فیصلوں میں عوامی مشکلات کو مدنظر رکھا جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں جو معیشت کے ساتھ ساتھ عوام کے اعتماد کو بھی مضبوط کریں۔پاکستان ایک مشکل معاشی دور سے گزر رہا ہے مگر ہر بحران کے ساتھ اصلاح کا موقع بھی موجود ہوتا ہے۔ اگر حکومت دانشمندانہ پالیسیوں کے ذریعے عوامی ریلیف، توانائی کے متبادل ذرائع اور معاشی نظم و ضبط کو یکجا کر لے تو یہ بحران مستقبل کے لیے ایک مضبوط بنیاد بھی بن سکتا ہے۔ کیونکہ کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کے عوام ہوتے ہیں، اور جب عوام کو سہارا ملتا ہے تو معیشت بھی سنبھلنے لگتی ہے٭

اپنا تبصرہ بھیجیں