کوئٹہ(این این آئی)جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سے ان کی رہائش گاہ پر تفصیلی ملاقات کی، جس میں بلوچستان کی موجودہ پیچیدہ سیاسی صورتحال، خضدار میں ہونے والے ضمنی انتخابات اور صوبے میں حقیقی سیاسی قیادت کو دیوار سے لگاکر مصنوعی قیادت کو فارم 47 کے ذریعے عوام پر مسلط کرنے کے عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر چیئرمین اسلم بلوچ، رکن صوبائی اسمبلی رحمت صالح بلوچ، رکن قومی اسمبلی پھلین بلوچ، ڈاکٹر اسحاق بلوچ، عبدالخالق بلوچ، چیئرمین محراب بلوچ اور چنگیز حئی بلوچ جبکہ مولانا عبدالواسع کے ہمراہ سینیٹر عبدالشکور، مولانا محمد اکرم اور محمود احمد بھی موجود تھے۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں حقیقی عوامی قیادت اور جمہوری قوتوں کو مسلسل نظرانداز کرکے غیر نمائندہ اور مصنوعی قیادت کو مسلط کرنے کی روش نہ صرف جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے بلکہ اس سے صوبے میں سیاسی عدم استحکام، بے چینی اور اضطراب کو بھی ہوا مل رہی ہے۔ رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان جیسے حساس اور شورش زدہ صوبے میں سیاسی عمل کو کمزور کرنا مسائل کو مزید پیچیدہ بناتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ حقیقی سیاسی جماعتیں باہمی رابطے اور مشاورت کے ذریعے مشترکہ اور مؤثر لائحہ عمل اختیار کریں۔ ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ جب تک بلوچستان میں سیاسی استحکام اور حقیقی عوامی نمائندگی کو یقینی نہیں بنایا جاتا تب تک صوبے میں پائیدار امن اور استحکام ممکن نہیں، لہٰذا اس مقصد کے حصول کے لیے بلوچستان کی حقیقی سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطوں اور مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور صوبے کی سطح پر سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایک مضبوط اور مؤثر اتحاد کے قیام کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں گے تاکہ جمہوری عمل، آئین کی بالادستی اور عوام کے حق حکمرانی کا ہر سطح پر دفاع کیا جاسکے۔

