پسنی (رپورٹر) نیشنل پارٹی کے سابق مرکزی نائب صدر انجنیئر حمید بلوچ نے ضلع گوادر کے ساحلی شہر پسنی میں قائم فش ہاربر کی کئی سالوں سے غیر فعالیت پر شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پسنی فش ہاربر کی مسلسل بندش حکومت بلوچستان اور وفاقی حکومت کی مجرمانہ غفلت اور بلوچستان دشمن پالیسیوں کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پسنی فش ہاربر کو علاقے کے ہزاروں ماہی گیروں کو سہولتیں فراہم کرنے، ماہی گیری کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ساحلی معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے تعمیر کیا گیا تھا، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ اہم منصوبہ برسوں سے غیر فعال پڑا ہے جبکہ حکمران صرف دعوؤں اور اعلانات تک محدود ہیں۔
انجنیئر حمید بلوچ نے کہا کہ پسنی اور مکران کے ماہی گیر پہلے ہی معاشی مشکلات، مہنگائی اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں، مگر حکومت کی بے حسی نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اگر پسنی فش ہاربر کو مکمل طور پر فعال کیا جائے تو ہزاروں خاندانوں کا روزگار بہتر ہو سکتا ہے اور مقامی معیشت کو نئی زندگی مل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے بلوچستان کے عوام کے مسائل ہمیشہ حکمرانوں کی ترجیحات سے باہر رہے ہیں۔ بڑے بڑے منصوبوں اور ترقی کے دعووں کے باوجود زمینی حقیقت یہ ہے کہ ساحلی علاقوں کے بنیادی معاشی منصوبے بھی مکمل طور پر فعال نہیں کیے جا سکے۔ پسنی فش ہاربر کی بندش اس نااہلی اور عدم سنجیدگی کی واضح مثال ہے۔
انجنیئر حمید بلوچ نے حکومت بلوچستان اور وفاقی حکام سے مطالبہ کیا کہ پسنی فش ہاربر کو فوری طور پر مکمل طور پر فعال کیا جائے، اس کے تمام تکنیکی اور انتظامی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں اور ماہی گیروں کو درپیش مشکلات کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے کیا کہ اگر حکومت نے اس مسئلے کو فوری طور پر حل نہ کیا تو ساحلی علاقوں کے عوام کا ردعمل سامنے آ سکتا ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوگی۔ بلوچستان کے وسائل اور ساحلی معیشت کو مزید نظر انداز کرنے کی پالیسی کسی صورت قابل قبول نہیں۔

