کوئٹہ(این این آئی)چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ عالمی طاقتوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا اور امریکہ اور اسرائیل کو ایران کے خلاف بربریت سے نہ روکا تو مشرقِ وسطیٰ طویل المدت وسیع جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی رسد اور امن و استحکام پر دہائیوں تک برقرار رہیں گے ایران پر حملوں کی حالیہ صورتحال مسلم دنیا کے لیے لمحہ فکریہ ہے مسلم ممالک کو سفارتی سطح پر زیادہ فعال کردار ادا کرتے ہوئے کشیدگی کے خاتمے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے علاقائی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں کے ذریعے امریکہ اور اسرائیل پر مؤثر سفارتی دباؤ ہی اس بحران کے پائیدار حل کی جانب پیش رفت کر سکتا ہے ایران پر رمضان کے دوران ہونے والے حملوں نے نہ صرف ایک انسانی المیہ کو جنم دیا ہے بلکہ عالمی نظام کی اخلاقی ذمہ داریوں کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے عالمی برادری بروقت اور منصفانہ کردار ادا نہ کر سکی تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ پوری دنیا کے امن و استحکام کو ہلا کر رکھ دیں گے۔ عمرہ کی ادائیگی کے موقع پر مکہ المکرمہ سے اپنے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے مزید کہا ہے کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران امریکہ اور اسرائیل ایران پر بلا جواز خوفناک بمباری جاری رکھے ہوئے ہیں امریکہ کے ایران پر حالیہ تباہ کن فضائی حملوں نے عالمی سطح پر شدید تشویش اور غم و غصے کو جنم دیا ہے اس مقدس مہینے میں جب دنیا بھر کے مسلمان عبادت، صبر, رواداری اور انسانیت کے جذبے کو فروغ دیتے ہیں، ایسے حملے انسانی اقدار اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں شہری علاقوں پر بمباری، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور عام معصوم شہریوں کی ہلاکتوں نے اس تنازع کو مزید المناک بنا دیا ہے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف سفاکانہ کاروائیوں نے خطے میں شدید کشیدگی پیدا کر دی ہے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس تباہ کن صورتحال کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں اور جنگی قوانین کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کو یقینی بنائیں۔ ایسے میں فوری سفارت کاری، ذمہ دارانہ قیادت اور عالمی سطح پر مؤثر احتساب ہی اس بحران سے نکلنے کا واحد راستہ ہے۔

