کوئٹہ (این این آئی) جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشیداحمد، ڈپٹی جنرل سیکرٹری حاجی بشیراحمد کاکڑ، سیکرٹری اطلاعات عبدالغنی شہزاد، عبدالصمد حقیار، مفتی محمد ابوبکر، ڈیجیٹل میڈیا کوآرڈینیٹر عبدالباری شہزاد، مولانا جمال الدین حقانی، مفتی رشید احمد حقانی، حاجی عطاء محمد شمشوزئی اور دیگر رہنماؤں نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کے اعلان کردہ رمضان راشن پیکج میں بدترین بدعنوانی، کرپشن اور غیر منصفانہ تقسیم انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہیں۔ ماہِ رمضان المبارک جیسے بابرکت مہینے میں غریبوں اور مستحق افراد کے نام پر سرکاری وسائل کی لوٹ مار نہ صرف اخلاقی طور پر قابلِ افسوس ہے بلکہ یہ عوام کے ساتھ کھلی ناانصافی کے مترادف ہے۔ رمضان راشن پیکیج کا مقصد مہنگائی اور معاشی مشکلات کے شکار غریب اور مستحق خاندانوں کو سہارا فراہم کرنا تھا مگر بدقسمتی سے اس پیکیج کو حقیقی مستحقین تک پہنچانے کے بجائے سیاسی بنیادوں پر اپنے من پسند اور منظورِ نظر افراد میں تقسیم کرکے محض خانہ پری کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے غریبوں اور مساکین کے اس فلاحی منصوبے کو بھی سیاسی مفادات کی نذر کردیا ہے جس کے باعث صوبے کے ہزاروں مستحق خاندان اس سہولت سے محروم رہ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام اس وقت شدید مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بحران سے گزر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں غریب اور دیہاڑی دار طبقہ پہلے ہی سخت مشکلات کا شکار ہے مگر حکومت کی نااہلی اور غیر شفاف پالیسیوں کے باعث رمضان پیکج بھی ان تک نہیں پہنچ پا رہا۔انہوں نے کہا کہ راشن پیکج کی تقسیم کے لیے کوئی واضح، باضابطہ اور شفاف طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا جس کے باعث بدعنوانی اور اقربا پروری کو فروغ ملا ہے۔

