اوتھل (این این آئی) ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے مہنگائی کے ایک نئے طوفان کو جنم دے دیا ہے، جس کے اثرات ملک بھر میں تیزی سے ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ پٹرول مہنگا ہوتے ہی ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں من مانا اضافہ کر دیا، جس کے باعث عوام خصوصاً غریب طبقہ شدید اذیت سے دوچار ہو گیا ہے۔ذرائع کے مطابق سب سے زیادہ متاثر دیہاڑی دار طبقہ ہو رہا ہے، جو روزانہ معمولی آمدن سے اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالتا ہے مگر بڑھتے کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں نے ان کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل بنا دیا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ملک میں بھوک اور افلاس میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے وفاقی و صوبائی حکومتوں سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی کے طوفان کو نہ روکا گیا تو عوام سڑکوں پر آنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست ٹرانسپورٹ اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں کو متاثر کرتا ہے۔ جس کے نتیجے میں مہنگائی کا دائرہ مزید وسیع ہونے کا خدشہ ہے۔لسبیلہ میں غیر قانونی ایرانی پٹرول پمپوں کی من مانی کرتے ہوئے قیمتوں میں خودساختہ اضافہ انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے جب کہ اوتھل ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ضلع لسبیلہ میں قائم غیر قانونی ایرانی پٹرول پمپوں کے مالکان نے بھی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ازخود اضافہ کر دیا، جس سے شہری شدید پریشانی اور اضطراب کا شکار ہو گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق ایرانی پٹرول کا مقامی مارکیٹ میں فروخت ہونے والے پاکستانی پٹرول سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔اس کے باوجود غیر قانونی پمپ مالکان نے راتوں رات قیمتیں بڑھا کر عوام کا استحصال شروع کر دیا ہے۔واضح رہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں یہ رجحان پہلے بھی دیکھا جا چکا ہے کہ جیسے ہی ملک میں پٹرول مہنگا ہوتا ہے، اسمگل شدہ ایرانی تیل کی قیمتیں بھی بلاجواز بڑھا دی جاتی ہیں، حالانکہ اس کی سپلائی لائن اور لاگت مکمل طور پر مختلف ہوتی ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان غیر قانونی پمپوں پر کسی قسم کا سرکاری کنٹرول موجود نہیں۔جس کی وجہ سے مالکان کھلے عام من مانے نرخ وصول کر رہے ہیں۔ شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ لسبیلہ میں قائم غیر قانونی ایرانی پٹرول و ڈیزل پمپوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ ناجائز منافع خوری کا خاتمہ اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

