پیٹرولیم قیمتوں میں یکدم بھاری اضافہ، معاشی قتل کے مترادف، تنظیم تاجران بلوچستان

کوئٹہ (این این آئی)مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے ترجمان اور مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن کاشف حیدری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 130 روپے سے زائد اضافے کو ملکی معیشت پر خطرناک حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اضافہ عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے اور اس کی مذمت جتنی بھی کی جائے کم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پیٹرول کی قیمت اب 458 روپے سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 520 روپے سے بھی اوپر پہنچ چکا ہے جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے اور یہ کسی بھی طور پر غریب عوام اور چھوٹے تاجروں کے لیے قابل برداشت نہیں ہے۔ کاشف حیدری نے کہا کہ اس فیصلے سے براہِ راست عوام کی جیب پر بوجھ پڑے گا اور مہنگائی کی موجودہ لہر مزید شدت اختیار کرے گی، کیونکہ جب ایندھن، خاص طور پر ڈیزل کی قیمتیں اس حد تک بڑھ جائیں گی تو ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات بڑھنے سے زندگی کی ہر بنیادی ضرورت عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اضافہ چھوٹے تاجروں کے لیے شدید معاشی مشکلات پیدا کر رہا ہے، کیونکہ ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے اور پیٹرول میں 137 روپے سے زائد کا یکدم اضافہ کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کر رہا ہے اور دکانداروں کے لیے روزمرہ کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ کاشف حیدری نے واضح کیا کہ حکومت کا فرض ہے کہ شہریوں کو ریلیف فراہم کرے نہ کہ ان پر ایسے معاشی بوجھ ڈالے جو ان کے روزگار کے لیے خطرہ بن جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے یہ فیصلہ فوری طور پر واپس نہ لیا تو تاجر برادری اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اور معاشی اقدامات کرنے پر مجبور ہو جائے گی اور پیدا ہونے والی صورتحال کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں