پشین (این این آئی)پشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع پشین کے ضلع کمیٹی کا اجلاس ضلعی صدر عمر خان ترین کے زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ضلع پشین کمیٹی اور تحصیلوں کی تنظیمی سیاسی کارکردگی رپورٹس پیش کی گئیں جس کی منظوری دیتے ہوئے انہیں کامیاب عظیم الشان جلسہ عام پر داد تحسین پیش کیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی ڈپٹی سیکرٹری سردار امجد خان ترین نے شرکت کی۔ اجلاس میں نادرا سے متعلق احتجاج کو زیر غور لایا گیا اور نادرا حکام کی آمد کے بعد شناختی کارڈ سے متعلق عوامی مسائل کو حل کرنے پر زور دیا گیا اور7اپریل کے احتجاج کو ملتوی کردیا گیا۔ اجلاس میں ضلع پشین میں رمضان کے موقع پر وزیر اعلیٰ پیکیج سے غریب مستحق خاندانوں کو محروم رکھ کر فارم 47کے نمائندوں میں اور من پسند افراد میں بندر بانٹ اور بالخصوص ُخرد برد کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور مطالبہ کیا گیا کہ وزیر اعلیٰ فوری طور پراس کی تحقیقات کرائیں کیونکہ یہ سامان پشین بازار میں فروخت ہوئے ہیں اور ڈپٹی کمشنر اور انتظامیہ اس پیکیج کو شفافیت کے ساتھ تقسیم کرنے میں مکمل طو رپر کوتاہی اور غفلت کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اجلاس میں یارو سانحہ میں پارٹی کے علاقائی سیکرٹری عبدالرحیم کے خاندان کے ساتھ ہونیوالے ظلم وذیادتی پر سخت دُکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی اور قاتلوں کی عدم گرفتاری پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ فوری طور پر مذکورہ کیس کو سیریس کرائمز ونگ کے حوالے کیا جائے اور جلد از جلد قاتلوں کو گرفتار کیا جائے تاکہ مذکورہ خاندان کو انصاف فراہم ہوسکیں۔ پارٹی یارو امن کمیٹی کے احتجاج کی بھرپور حمایت کرتی ہے اور ان کے ساتھ مکمل طور پر کھڑی ہے۔ اجلاس میں ضلع پشین کے مختلف علاقوں میں بدامنی، چوری، ڈکیتی کی وارداتوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا اور پولیس کی جانب سے جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی اور عوام کے سرومال کے تحفظ کو یقینی بنانے کی بجائے عوام کو تنگ کرنے کے ناروا اقدامات کو قابل افسوس اور قابل مذمت قرار دیا گیا۔ اجلاس سے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری سردار امجد خان ترین اور ضلع صدر عمر خان ترین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی اپنے چیئرمین محمود خان اچکزئی کی قیادت میں جاری قومی سیاسی جمہوری جدوجہد میں اپنا فعال رول ادا کرتے ہوئے اپنے غیور عوام کو درپیش صورتحال سے نجات دلائیگی۔ آج عوام بدترین مسائل ومشکلات سے دوچار ہیں جس کے ذمہ دار فارم 47کے نمائندگان اور انہیں عوام پر مسلط کرنیوالے لوگ ہیں۔ 8فروری کوریاستی زروزور کی بنیاد پر عوام کے ووٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا اور عوام پر جعلی نمائندوں کو مسلط کیا گیا جن کی کرپشن، کمیشن، اقرباء پروری آج تمام عوام کے سامنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت جس بحرانی کیفیت سے گزر رہا ہے، وہ کسی ایک مسئلے تک محدود نہیں بلکہ ہر شعبہ زندگی میں بدانتظامی، نااہلی اور عوام دشمن پالیسیوں کا واضح عکس نظر آتا ہے۔ امن و امان کی ابتر صورتحال نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے؛ لوگ خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں، جبکہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری یعنی شہریوں کا تحفظ بری طرح نظرانداز ہو چکا ہے۔اسی کے ساتھ نادرا کے غیر ضروری ایس او پیز اور پیچیدہ شرائط نے عام شہری کے لیے شناختی کارڈ بنوانا ایک کٹھن مرحلہ بنا دیا ہے۔ غریب اور دیہاڑی دار طبقہ، جو پہلے ہی مسائل کا شکار ہے، اب لمبی قطاروں، بار بار چکر لگانے اور غیر ضروری دستاویزی تقاضوں کے بوجھ تلے پس رہا ہے۔ شناخت جیسے بنیادی حق کو اس قدر مشکل بنا دینا سراسر ناانصافی ہے۔دوسری جانب مہنگائی نے ہر گھر کا چولہا ٹھنڈا کر دیا ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جبکہ عوام کی آمدن جمود کا شکار ہے۔ ایک عام آدمی کے لیے اپنے بچوں کا پیٹ پالنا، علاج کروانا اور بنیادی ضروریات پوری کرنا خواب بنتا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال کسی قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں بلکہ مسلسل غلط پالیسیوں اور عوام سے لاتعلقی کا شاخسانہ ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو فوری طور پر اپنی ترجیحات درست کرنا ہوں گی۔ عوام کو ریلیف دینا، نظام کو آسان بنانا اور امن و امان کی بحالی کو یقینی بنانا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو عوام احتجاج پر مجبور ہوں گے۔ عوامی مسائل کو سنجیدگی سے لیا جائے، ورنہ یہ بڑھتی ہوئی بے چینی ایک بڑے ردعمل میں تبدیل ہو سکتی ہے جس کی تمام تر ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوگی۔

