بولان(این این آئی)حالیہ شدید طوفانی بارشوں اور ژالہ باری نے ڈھاڈر اور گردونواح کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے جس کے نتیجے میں ڈھاڈر کے متعدد دیہاتوں کا زرعی شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے مقامی زمینداروں و کاشتکاروں کو کروڑوں روپے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے ان خیالات کا اظہار شہری ایکشن کمیٹی ڈھاڈر کے صدر آغا محمد رحیم احمد زئی نے ڈھاڈر پریس کلب کے صحافیوں سے خصوصی گفتگو میں کیا انکا کہنا تھا کہ طوفانی بارشوں اور ژالہ باری کے باعث ڈھاڈر گردونواح کے متعدد دیہات شدید متاثر ہوئے ہیں جن میں میر باغ، کوٹ رئیسانی، کوٹ کھائی، غلام بولک، جلبانی، چرخی، نغاری سمیت دیگر علاقے شامل ہیں انہوں نے بتایا کہ ان علاقوں میں سینکڑوں ایکڑز پر کھڑی تیار فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں متاثرہ فصلوں میں گندم، سورج مکھی،خربوزے و دیگر فصلیں شامل ہیں جو کٹائی کے قریب تھیں تاہم اچانک آنے والی موسمی آفت نے کسانوں کی محنت پر پانی پھیر دیا انہوں نے کہا کہ ڑالہ باری کے باعث فصلوں کو شدید نقصان پہنچا جبکہ تیز ہواؤں اور بارش نے کھڑی فصلوں تہس نہس کردیا ہے انہوں نے کہا کہ اس قدرتی آفت کے باعث نہ صرف زمینداروں،کسانوں کی معاشی حالت متاثر ہوئی ہے بلکہ علاقے میں خوراک کی پیداوار پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے متاثرہ کسان پہلے ہی مہنگائی اور زرعی اخراجات میں اضافے کی وجہ سے مشکلات کا شکار تھے اور اب اس آفت نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے انہوں نے صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر متاثرہ علاقوں کا سروے کرایا جائے اور نقصانات کا تخمینہ لگا کر کسانوں کیلئے ہنگامی بنیادوں پر خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جائے تاکہ وہ دوبارہ اپنی زرعی سرگرمیاں بحال کر سکیں۔

