کوئٹہ (این این آئی) بلوچستان ڈیجیٹل پبلشرز فورم کے ترجمان کے مطابق مجوزہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی پر شدید تحفظات کے پیش نظر ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت فورم کے صدر کوئٹہ وائس کیایڈیٹر سید علی شاہ نے کی۔ اجلاس میں جئیند بلوچ انتخاب، ظفر اچکزء روزنامہ قدرت، بیبرگ بلوچ روزنامہ ازادی اور روزنامہ الجزیرہ سے سہیل بلوچ کی نے شرکت کی ۰اجلاس میں پالیسی کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا اور اسے موجودہ شکل میں ناقص اور غیر مشاورتی قرار دیا گیا۔ فورم نے ڈیلی نیوز پیپرز ایڈیٹرز کونسل کے بیان اور مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ڈیجیٹل میڈیا کیلئے بجٹ الگ سے مختص کیا جانا چاہیے نہ کہ پرنٹ میڈیا کیلئے مختص بجٹ پر کٹ لگایا جائے کیونکہ ایسا کرنا صوبے کے قدیم پریس کے خاتمے کا قدم ہوگا اجلاس میں ڈیجیٹل میڈیا کی مجوزہ پالیسی کا ڈرافٹ سٹیک ہولڈرز کیساتھ شیئر نہ کرنے ان کی رائے نہ لینے صرف کاغذی کارروائی کی حد تک ایک اجلاس منعقد کرنا جس میں پالیسی کے نکات پر بھی بریفنگ نہیں دی گئی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے یکسر مسترد کیا گیا فورم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی کو فوری طور پر ازسرِ نو ترتیب دیا جائے اور اس عمل میں تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ یہ پالیسی وفاقی حکومت، پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ اور دیگر صوبوں کے فریم ورک سے ہم آہنگ ہونی چاہیے، تاہم اسے کسی بھی صورت میں پرنٹ میڈیا کے نقصان پر نافذ نہیں کیا جانا چاہیے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ بلوچستان ملک کے حساس اور شورش زدہ علاقوں میں شامل ہے جہاں میڈیا ہاؤسز اور صحافی طویل عرصے سے سیکیورٹی خطرات اور مالی مشکلات کے باوجود اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ بین الاقوامی ادارے، خصوصاً Reporters Without Borders، متعدد بار اس صورتحال کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ صوبے میں صحافی عملاً“لائن آف فائر”میں کام کرتے ہیں۔ فورم کے مطابق مقامی میڈیا ادارے ہزاروں نوجوانوں کے لیے روزگار کا ذریعہ ہیں، اور ایسے میں سرکاری اشتہارات میں کمی یا غیر واضح پالیسی ان کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ شرکاء نے کہا کہ ملک میں میڈیا کا مجموعی بجٹ دیگر ترقیاتی منصوبوں کے مقابلے میں نہایت کم ہے، اس لیے اس شعبے کو مزید محدود کرنا کسی طور مناسب نہیں۔ اجلاس میں تجویز دی گئی کہ میڈیا کو پرنٹ، ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کی واضح کیٹیگریز میں تقسیم کر کے متوازن پالیسی بنائی جائے، جبکہ میڈیا ورکرز کے تحفظ اور مقامی اداروں کی بقا کو یقینی بنایا جائے۔

