خاران کا تاریخی “دل آرام ہاؤس” توجہ کا منتظر، ورثے کی بحالی کی ضرورت پر زور

خاران (رپورٹ محمدعیسی محمدحسنی)کسی بھی علاقے کی شناخت وپہچان اس کی تہذیب وتعمدن زبان رسم رواج تاریخی قدیم زمانے کے عمارات سے کی جاتی ہیں خاران چونکہ ایک الگ ریاست رہا ہے اس ریاست کی اپنی ہی کرنسی اور حکومت سازی رہی ہیں مملکت پاکستان کے قیام کے بعد ریاست خاران پاکستان کے ساتھ الحاق کیا گیا اس کے بعد حکومت پاکستان کو بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حکومت سازی کے قیام کے لئے ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں دفتری امور کو چلانے اور رہائش گاہ کی اشد ضرورت تھا اس بابت نواب آف خاران نواب حبیب اللہ خان نوشیروانی کے دور حکومت میں جب ریاست خاران کو پاکستان کے ساتھ الحاق کیا گیا تو نواب آف خاران نواب حبیب اللہ خان نوشیروانی نے بطور میزبان کے حیثیت سے اپنے اعلی رہائش گاہ دل آرام ہاوس (بنگلہ) جیسے عمارت وہ خود استعمال میں لارہا تھا خود اس دل آرام ہاوس (بنگلہ)کو حکومت پاکستان کو ایک معاہدہ کے تحت حوالے کرکے ضلعی انتظامیہ کے معتلقہ آفیسر کو رہائش کے لئے دے دی تاکہ انھیں رہائش سے متعلق کوئی مشکلات کا سامنا کرنا نہ پڑے دل آرام ہاوس چونکہ ایک تاریخی اور قدیمی اور شہر کے عین وسط میں واقع ایک نہایت تاریخی اور پرشکوہ عمارت ہیں یہ عمارت اس وقت کی ریاست خاران کی شان شوکت اور نوابوں کے ذوق تعمیر کا منہ بولتا ثبوت ہے فن تعمیر یہ عمارت اپنےمنفرد طرز تعمیر کی وجہ سے مشہور ہے اس میں روایتی بلوچ اور اسلامی فن تعمیر کے جدید طرز (برطانوی ہند کے اثرات) کی جھلک بھی نظر اتی ہے اس کی مضبوط دیواریں اور اونچی چھتیں اسے خاران کی شدید گرمی میں بھی ٹھنڈا رکھتی ہیں یہ عمارت ریاست خاران کے اہم سیاسی اور انتظامی فیصلوں کا مرکز رہی ہے خاران شہر کے مرکز میں واقع ہونے کی وجہ سے یہ ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں آج بھی جب خاران کی تاریخ یا وہاں کی اہم عمارات کا ذکر ہوتا ہے تو دل آرام ہاوس کا نام سہر فہرست اتا ہے ایسے عمارات نہ صرف کسی شہر کا حسن ہوتی ہے بلکہ وہ اس علاقے کی تاریخ کو بھی خود میں سموئے ہوئے ہوتی ہیں جب اس دور میں وسائل کی کمی تھی تو اس عمارت کی تعمیر میں استعمال ہونے والا پتھر اور خاص قسم کا چونا اسے زلزلوں اور سخت موسم سے محفوظ رکھتا ہے اس کی دیواریں کافی چوڑی ہیں جو قدیم قلعہ نما طرز تعمیر کی عکاسی کرتی ہیں خاران کے شدید گرم موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کمروں کی چھتیں عام گھروں سے بہت اونچی رکھی گئی ہیں تاکہ ہوا کی گردش بہتر رہے اور کمرے ٹھنڈے رہیں عمارت میں ہوا کے گزر کے لئے بڑے روشن دان بنائے گئے ہیں جو قدرتی طور پر ائیر کنڈیشننگ کا کام کرتے ہیں دل آرام چونکہ ریاست خاران کے نوابوں کی شاہانہ پسند کا ائینہ دار ہے عمارت کے سامنے اور اطراف میں وسیع برآمدے ہیں جو اسے ایک پرشکوہ شکل دیتے ہیں عمارت کے ستونوں اور محرابوں پر اس دور کے ماہر کاریگروں نے خوبصورت کام کیا ہے جو اسلامی اور بلوچی فن تعمیر کا حسین امتزاج ہے اس کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی تاریخی قدامت ہے یہ عمارت ریاست خاران کے پاکستان کے ساتھ الحاق سے بھی تقریبا 9 سال پہلے کی تعمیر شدہ ہے جو اس خطے کی تاریخ کا ایک زندہ باب بناتی ہے اس عمارت کی تعمیر اور دیکھ بھال کی کتنی ضرورت ہے تاکہ یہ تاریخی ورثہ انے والے نسلوں کے لئے محفوظ رہ سکیں اس بنگلے کے ساتھ ایک وسیع صحن اور باغ بھی تھا جسے اب شاید وقت کے ساتھ تبدیل کردیا گیا ہو جہاں نواب خاران کے خاص مہمانوں کی تواضع کی جاتی تھی سیاسی و سماجی مرکز اپنی رپورٹ میں اس نکتے پر زور دیں کہ یہ صرف ایک گھر نہیں بلکہ مرکز سیاست رہا ہیں یہاں پر بڑے بڑے سردار سیاستدان اور برطانوی دور کے اعلی حکام قیام کرچکے ہیں ریاست خاران کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے وقت کی کئی اہم بیٹھکیں اور مشورے اسی عمارت کی دیواروں کے سائے میں ہوئی ہونگے۔ یہ بنگلہ خاران کی پہچان ہے لیکن کیا نئی نسل اس کی تاریخ اہمیت کو برقرار رکھ سکتے ہیں کیونکہ خاران کے قلب میں واقع دل آرام ہاوس جو 1939 کی یادگار ہے اج بھی نوشیروانی خاندان کی عظمت رفتہ کی کہانی سناتا ہے یہ عمارت صرف اینٹ اور پتھر کا مجموعہ نہیں بلکہ ریاست خاران کے سیاسی عروج و زوال کی خاموشی گواہ ہے علاوہ ازیں دل آرام ہاوس بنگلہ خاران کی وہ تاریخی عمارت ہے جو اپنی تعمیراتی خوبصورتی اور پائیداری کی وجہ سے اج بھی منفرد مقام رکھتی ہے قلعہ خاران کے بعد دل آرام کی اپنی ایک حیثیت اور مقام تھا آج بھی دور دور سے لوگ خاران آکر اس منفرد طرز تعمیر دیکھنے کے آتے ہیں نواب دل آرام چونکہ تاریخ خاران میں قلعہ خاران کے بعد ایک خاص اہمیت رکھتا ہیں تاریخی شاہی جامع مسجد خاران کی تعمیر کے فوری بعد اس تاریخی بنگلہ کا کام شروع کیا گیا 1948 میں پاکستان کے ساتھ الحاق کے فوری بعد والی ریاست نے ٹوہ ملک میں سکونت اختیار کی والی ریاست نواب آف خاران نے اس تاریخی بنگلہ کو رہائش کے لیے بہت کم استعمال کیا ریاست خاران کو جب مملکت پاکستان کے ساتھ باقاعدہ الحاق کیا گیا تو اس دوران مملکت پاکستان نے اپنے نمائندے خاران بھیجے تو ان کو عدم رہائش کے مسئلے سے دوچار ہوکر انھوں نے نواب آف خاران سے استدعا کیا کہ انھیں بحیثیت مہمان اس ریاستی بنگلہ کو دیا جائے یوں یہ بنگلہ آخری لمحات تک ضلع خاران کے ضلعی انتظامی آفیسر ڈپٹی کمشنرز اس بنگلہ میں رہائش پذیر ہوگئے جبکہ نواب آف خاران ٹوہ ملک میں متواتر رہائش رہے طویل بیماری کے بعد نواب خاران 1958 میں وفات پاگئے ان کے وفات کے بعد یہ تاریخی بنگلہ ریاستی جائیداد کے ساتھ صدارتی آرڈیننس 1960 اس بنگلے کو میانجی خانہ میں شامل کیا گیا طویل عرصے بعد جب 2000 میں جائیداد ریلیز ہوئے تو یہ بنگلہ ورثاء کے حوالے کیا گیااور تاریخی ورثہ دل آرام ہاوس کو نواب زادہ امیر شہیر یار خان نوشیروانی کے طویل میں دیا گیا یہ بنگلہ اہل بلوچستان کے لوگوں کے لئے ہر وقت کھلا رہتا ہے دل آرام کا معنی یہ ہے کہ دل کو سکون ملنے والا یہ بنگلہ کئی ایکڑ اراضی پر مشتمل ہیں بنگلہ کے کھجور کے درخت نمایاں ہیں دل آرام کے باہر مین گیٹ پر ریاست خاران کے دو توپ رکھے ہیں جو مزید اس کی خوبصورتی میں اضافے کا عامل ہیں، دل آرام خاران شہر کے بالکل قلب میں واقع ہے، جس کے گیٹ کے سامنے ریاست خاران کے وقت کے دو عدد توپ بھی رکھے ہوئے ہیں، جب اس تاریخی عمارت کو نواب آف خاران نے مملکت پاکستان کے حوالے کیا گیا تاکہ ان کے ضلعی انتظامی آفیسران اس میں رہائش پذیر ہوکر بآسانی اپنے سرکاری امور چلا سکیں لیکن افسوس کا امر یہ ہے دوران سرکاری آفیسران جب تک اس تاریخی عمارت کو استعمال کرتے رہے انھوں نے اس تاریخی ورثہ پر کوئی توجہ نہیں دیا اور نہ ہی اس عمارت کی بہتر ی کے لیے وہ کردار ادا کرنا چاہیے تھا یاکہ حفاظت کرنا تھا وہ کر نہیں سکیں یہ تاریخی بنگلہ کھنڈرات کا پیش کرنے لگا اور آخری ایام کے دوران یہ خستہ حالی کا شکار رہے طویل عرصے تک ضلعی انتظامیہ کے ڈپٹی کمشنرز جیسے اہم عہدوں پر فائز آفیسران اس عمارت میں رہائش پذیر ہونے کے ساتھ ساتھ اس تاریخی ورثہ پر انصاف تک نہیں کیا گیا عمارت کے لیے سالانہ جو گرانٹ سرکار کی طرف سے اتے رہے لیکن وہ اس تاریخی عمارت پر خرچ نہیں کئیے گئے جب یہ عمارت نواب خاران کے خاندان کے حوالے کیا گیا وہ بلکل خستہ حالت کی شکل میں تھا جب سرکار اور نواب آف خاران کے مابین معاہدے کا مدت ختم ہوا تو نواب آف خاران کے خاندان نے اسے اپنے طویل میں لینے کی کوشش کی لیکن سرکار کی طرف سے مختلف طریقوں سے مزاحمت اور مداخلت کی گئی حتی کہ نواب آف خاران کے خاندان کے خلاف ایف آئی آر تک درج کی گئی اور گرفتاریاں بھی ہوئی پھر بھی نواب آف خاران کے خاندان نے صبر کا دامن ساتھ لے کر قانونی طور پر جنگ کی اور قانونی طور پر باقاعدہ اعلی عدالتی فیصلے کے پیش نظر یہ تاریخی ورثہ نواب آف خاران کے خاندان کے حوالے کیا گیا جب نواب آف خاران کے خاندان ذرائع نے کہا کہ یہ تاریخی ورثہ جب ہمارے حوالے کیا گیا جوکہ ناقابل استعمال کی شکل میں تھا پھر بھی ہم کوشش کرئینگے اس تاریخی ورثہ کو اس کی اصل شکل میں لائیں کیونکہ یہ تاریخی ورثہ خاران بلکہ رخشان کی پہچان ہے اور خاران و رخشان کے پہچان کو بحال کرنے کے لئے جتنی ممکن ہوسکے اپنا بھرپور کردار ادا کرئینگے

اپنا تبصرہ بھیجیں