آصف عفان
ویل ڈَن پاکستان! پاک بھارت جنگ کے بعد قدرت نے وطنِ عزیز کو ایک بار پھر عالمی سطح پر اس تاریخ ساز پذیرائی سے نوازا ہے جس پر فخر سے کہیں زیادہ شکر بجا لانا بنتا ہے۔ ٹرمپ بہادر کی دھمکی آمیز پے در پے ڈیڈ لائنز اور کسی بھی حد سے گزر جانے کے جارحانہ عزائم کو ٹالے رکھنے کے علاوہ فریقین کو قائل کرنے کی ثمر آور کوششیں بلاشبہ عالمی سفارتکاری کا سنہرا باب ہیں۔ آپے سے باہر امریکی صدر ٹرمپ کا جنگی جنون نہ صرف تیسری عالمی جنگ کا طبل بننے جا رہا تھا بلکہ خطے کو بھیانک انسانی المیے سے دوچار کرنے کا باعث بھی ہو سکتا تھا۔ ایسے میں پاکستانی ٹرائیکا کی بھاگ دوڑ اور معاملہ فہمی نے عین وقت پر وہ سبھی بلائیں ٹال دیں جو خطے کیلئے نہ ختم ہونے والی تباہی اور بربادی بننے جا رہی تھیں۔ جنگ بندی کا اعلان ہونے کے باوجود فساد کی جڑ اسرائیل نے لبنان پر ایک اور وحشیانہ حملہ کر ڈالا ہے‘ جس کے نتیجے میں 254شہادتوں کے علاوہ 1100شہری شدید زخمی ہو چکے ہیں۔ خدا جانے یہ کیسا امن معاہدہ ہے جس میں مرکزی مجرم کسی مصالحت کا پابند ہی نہیں۔
ایران امریکہ جنگ بندی یقینا خوش آئند ہے لیکن گریٹر اسرائیل کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کا جنون جوں کا توں دکھائی دے رہا ہے۔ امن مسودے کے مندرجات اور ثالثی اثرات اسرائیل پر کیونکر لاگو نہیں ہوتے یہ معمہ بجا طور پر معنی خیز ہے۔ گویا:
ظلم رہے اور اَمن بھی ہو؍ کیا ممکن ہے تم ہی کہو
دنیا بھر کی نظریں ہمارے شہر اقتدار پر ہیں‘ عالمی امن سے جڑے مذاکرات کی میزبانی جہاں پاکستان کیلئے باعث تفاخر اور اعزاز ہے وہاں بھارت کیلئے پریشان کن تنہائی کا باعث بھی ہے۔ بھارتی میڈیا کی یاوہ گوئی سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بڑی معاشی منڈی اور عسکری طاقت ہونے کے باوجود اس عالمی منظرنامے میں بھارت کسی کھاتے میں شمار نہیں۔ ہسپانوی وزیراعظم نے اس جنگ بندی کا خیر مقدم کرنے کے علاوہ اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ ہسپانوی حکومت ان لوگوں کی تعریف نہیں کرے گی جو دنیا کو آگ لگائیں اور پھر داد وصول کرنے کیلئے پانی کی بالٹیاں بھی لے کر آجائیں۔ خدا کرے یہ جنگ بندی مستقل اَمن کی طرف پہلا قدم ثابت ہو اور 40روزہ جنگ سے برآمد ہونے والے سبق آموز نتائج امریکہ اور اسرائیل سمیت یقینا بھارت کیلئے بھی قابلِ فکر ہیں۔ عالمی اجارہ داری کے خواب ہوں یا عسکری قوت اور ٹیکنالوجی کے گھمنڈ میں خطے پر چڑھ دوڑنے کی حماقتیں‘ سبھی کے پول اس طرح کھلے ہیں کہ سپر پاور کو بھی جنگ بندی میں ہی پناہ نظر آئی۔ ایران جیسی قدیمی سپر پاور نے دورِ جدید میں سپرپاور تصور کیے جانے والوں کے سبھی بھرم توڑ ڈالے ہیں۔ ایرانی تہذیب کو ملیامیٹ کرنے کی دھمکی دینے والے پاکستانی ثالثی کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ عالمی پذیرائی بجا طور پر تحفۂ خداوندی ہے۔ ان لمحات سے آنے والوں برسوں‘ دہائیوں اور صدیوں کو بجا طور پر سنوارا جا سکتا ہے۔ ماضی کی غلطیاں دہرانے کے بجائے اس بار سبھی فیصلے ملک و قوم کے مفادات اور ترقی سے مشروط ہونے چاہئیں۔
ضیا الحق دور میں افغان جہاد کی قیمت ملک و قوم کے حق میں وصول کرنے کے بجائے ایسے ایسے فیصلے کیے گئے جن کی قیمت نسل در نسل چکاتے چلے آرہے ہیں۔ طولِ اقتدار کی خواہش ہو یا استحکامِ اقتدار کی‘ ان سبھی کو پورا کرنے کیلئے جو اقدامات کیے گئے ان سبھی کے اثراتِ بد آج بھی ملک کے کونے کونے میں جابجا ہرسو دکھائی دیتے ہیں۔ اسی دور میں لگائی گئی نئی سیاسی پنیری کہیں گھنا جنگل بن کر تو کہیں خار دار بیل کی طرح آج بھی سسٹم کو لپیٹے ہونے ہے۔ اسی طرح نائن الیون کے بعد امریکی مطالبے ”ڈو مور‘‘ کو نصب العین بنانے والے پرویز مشرف بھی امریکہ کی ضرورت بنے رہنے کیلئے سبھی حدیں پار کرتے رہے۔ جنگی سہولت کاری کے علاوہ امریکی ایجنسیوں کو ہر ممکن رسائی کے سبھی مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے جیتے جاگتے شہریوں کو بھی پارسل بنا کر حوالے کرتے رہے۔ ان سبھی خدمات کے عوض ملک و قوم کو کیا ہی ملتا سبھی مراعات اور امریکی نوازشات کی بندر بانٹ بھی آپس میں ہی جاری رہی۔ ان دونوں ادوار میں پیش پیش اور سرگرم رہنے والوں کو سبھی جانتے ہیں‘ مال بنانے سے لے کر نسلیں سنوارنے تک کسی نے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ تاریخ کے اوراق پلٹنے کا مقصد محض تمہید باندھنا ہرگز نہیں بلکہ ماضی کا وہ آئینہ دکھانا ہے جس میں سبھی چہرے اور کردار بخوبی دیکھے جا سکتے ہیں۔
عالمی منظر نامے پر پاکستان کو جو قدر و منزلت آج نصیب ہے ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس مقامِ شکر کا حق ماضی کی غلطیوں اور بدعتوں سے بچ کر ہی ادا کیا جا سکتا ہے۔ کل تک وزیراعظم شہباز شریف ٹرمپ بہادر کو امن داعی ثابت کرنے پر بضد اور نوبیل پیس پرائز کا حقدار قرار دے رہے تھے‘ آج خود وزیراعظم اس ٹائٹل کے اہل دکھائی دیتے ہیں‘ افسوس! صدر ٹرمپ نے ہمارے وزیراعظم کا نیوندرا پلٹانے کے بجائے تاحال دبا رکھا ہے۔ ستائشِ باہمی بھی کوئی چیز ہوتی ہے‘ اگر شہباز شریف صدر ٹرمپ کو بے سبب امن کا داعی قرار دے سکتے ہیں تو صدر ٹرمپ کو بھی ازخود خیال کرنا چاہیے۔ پاک بھارت جنگ بند کرانے میں ٹرمپ کا کتنا کردار تھا اور بھارت کے اوسان کیونکر خطا ہو گئے تھے‘ اس بارے سبھی واقفانِ حال بخوبی جانتے ہیں لیکن ایران کے ہاتھوں مستقل بنتی درگت کو روکنے کا کریڈٹ پاکستانی وزیراعظم اور سپہ سالار کو ہی جاتا ہے۔ اگر پاکستان ثالثی کی کوششیں تیز نہ کرتا تو ٹرمپ کو ڈیڈ لائن مجبوراً بڑھانا پڑتی اور رہا سہا بھرم بھی جاتا رہتا۔
خیر! اس جنگ تماشے سے خطے کے ان سبھی ممالک کو چانن ضرور ہو گیا ہے جو امریکی تعلقات کے خمار میں مغالطے کا شکار تھے۔ تلواروں کو فقط رقص پر لہرانے والے اپنے ملکی دفاع میں بھی امریکہ کے مرہونِ منت اور محتاج نکلے۔ ایران کی طرف سے دھلائی کے بعد یہ عقدہ بھی کھل چکا کہ امریکہ پر انحصار جیسی غلطی نے ان سبھی کا بیڑہ ڈبو ڈالا ہے۔ ایران نے بھاری معاشی نقصان کے علاوہ اکانومی کی چولیں بھی ہلا ڈالی ہیں‘ ایسے میں ان سبھی ریاستوں کو اپنے پیروں پر واپس کھڑا ہونے میں خاصا وقت لگ سکتا ہے۔ تاہم اس جنگ بندی کو عارضی ہی سمجھا جائے؛ البتہ اس کا دورانیہ حکمت اور تدبر سے بڑھایا ضرور جا سکتا ہے۔ لمحۂ موجود ہی سب کچھ ہے‘ امریکہ سمیت خطے کے دیگر ممالک سے کچھ معاہدے ایسے ضرور کر لینے چاہئیں جو ہماری مستقل اہمیت کے ضامن ہونے کے علاوہ معاشی استحکام اور ترقی سے بھی منسوب ہوں۔ ماضی میں مستقل دہرائی جانے والی غلطیوں کا ازالہ بس اسی صورت ہو سکتا ہے کہ اس بار فیصلے فقط ملک و قوم کے حق میں ہی کیے جائیں۔ بیرونِ ملک اثاثوں اور دھن دولت کے انبار لگانے کی بدعت نے ہر بار ملک و قوم کو مرگِ نو سے ہی دوچار کیا ہے‘ ان بدعتوں کو دوام بخشنے والے سبھی مملکتِ خداداد سے کہیں دام تو کہیں تاوان برابر وصول کرتے رہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر عدم سدھارنے کے باوجود آج بھی زندہ اور عوام ہی مرتے چلے آرہے ہیں۔ قطرہ قطرہ‘ ریزہ ریزہ‘ دھیرے دھیرے‘ لمحہ لمحہ‘ ٹکڑوں میں‘ نسل در نسل۔ اس بار عالمی پذیرائی کے بینی فشری حکمران نہیں ریاست اور عوام ہونے چاہئیں۔ سرمایہ کاری ملک میں اور سرمایہ عوام کا۔
Load/Hide Comments

