کوئٹہ(این این آئی)گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان کی طویل ساحلی پٹی وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کو ملانے والا سہ فریقی اقتصادی مرکز بن سکتی ہے۔ پاکستان بلیو اکانومی کے اعتبار سے پورے خطے کی قیادت کرنے کی بیمثال صلاحیت رکھتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ ان اقتصادی اور تجارتی مواقعوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاک نیوی اور پبلک سیکٹر یونیورسٹی اب مشترکہ طور پر جدید ریسرچ پر مبنی ایک جامع حکمت عملی تیار کریگی جو تمام سمندری وسائل کو بروئے کار لانے میں ہمیں مدد اور رہنمائی کریگی۔ بلیو اکانومی کی ترقی سے ہم بیروزگاری اور غربت پر بآسانی قابو پا سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان نیوی وار کالج لاہور کے زیر تربیت آفیسرز سے کوئٹہ کے مطالعاتی دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر کمانڈنٹ پاکستان نیوی وار کالج لاہور ریئر ایڈمرل سہیل احمد عزمی اور معتدد ممالک کے زیر تربیت آفیسرز بھی موجود تھے۔ انٹر ایکشن کے دوران زیر تربیت آفیسرز نے مختلف سوالات کیے جن کا گورنر بلوچستان نے تفصیل سے جواب دیئے۔ اس موقع پر گورنر جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ پاکستان اس پورے خطے میں امن اور ہم آہنگی کے ستون کے طور پر کھڑا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دنیا میں ہر جگہ پائیدار امن کی اشد ضرورت ہے۔ مزید برآں، تباہ کن 40 روزہ حالیہ جنگ کے بعد، پاکستان کی دانشمندانہ اور کامیاب ڈپلومسی نے وہ کامیابی حاصل کی جسے بہت سے لوگ ناممکن سمجھتے تھے۔ نصف صدی میں پہلی بار امریکہ اور ایران کو براہ راست مذاکرات کیلئے ایک میز پر لایا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ الفاظ جب دانشمندی اور ڈپلومیسی سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں تو مہلک ہتھیاروں اور کشیدگی پر باآسانی قابو پا سکتے ہیں۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ اپنے نوجوانوں مختلف معاشی سرگرمیوں اور روزگار کے مواقعوں کے ذریعے اپنے نوجوانوں کو قومی دھارے میں لانے اور ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔گورنر مندوخیل نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ یہ پاکستان نیوی وار کالج کے زیرِ تربیت آفیسرز کا مطالعاتی دورہ آپ کی یادداشت کا ایک یادگار حصہ بن جائیگا۔ یہ یاد رکھیں کہ آپ کوئٹہ میں مہمان بن کر آئے ہیں لیکن آپ اچھے دوست بن کر چلے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کا جغرافیہ اسے پورے خطے کا گیٹ وے بناتا ہے۔ پاکستان کا معاشی مستقبل بلوچستان سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری آبادی قلیل ہے لیکن دور دراز علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے جس کی وجہ سے عوام کو تمام بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ گورنر صاحب نے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں آپ کا قیام محفوظ اور خوشگوار ہو۔ آخر میں مہمانان گرامی کے درمیان یادگاری شیلڈز کا تبادلہ ہؤا۔

