کوئٹہ(این این آئی) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں بجلی کی 14 گھنٹے طویل لوڈشیڈنگ عوام کے لیے سنگین انسانی اور معاشی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ محدود وسائل کے باعث پہلے ہی مشکلات کا شکار عوام کے لیے طویل دورانیے کی بجلی بندش زندگی کو مزید اذیت ناک بنا رہی ہے۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر دیہاڑی دار مزدوروں، چھوٹے کاروباری افراد اور کم آمدنی والے طبقے پر پڑ رہا ہے، جن کی روزمرہ زندگی بجلی کی دستیابی سے براہ راست جڑی ہوئی ہے۔ بجلی کے ساتھ ساتھ گیس کی لوڈشیڈنگ نے حالات کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ گھریلو صارفین کھانا پکانے اور بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ کوئٹہ جیسے بڑے شہر میں بھی اگر صورتحال یہ ہو تو دور دراز علاقوں میں عوام کی مشکلات کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادرنے مزید کہا ہے کہ تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے، جس سے مجموعی طور پر معیارِ زندگی گر رہا ہے۔ توانائی کے شعبے میں دیرینہ مسائل، ناقص منصوبہ بندی اور ترسیلی نظام کی کمزوریاں اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔ بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں عوامی بے چینی میں اضافہ ہوگا۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لے اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے۔ بجلی کی منصفانہ تقسیم، متبادل توانائی ذرائع کی ترقی، اور انفراسٹرکچر کی بہتری ناگزیر ہو چکی ہے۔ بصورت دیگر، یہ بحران نہ صرف عوامی مشکلات میں اضافہ کرے گا بلکہ صوبے کی معاشی ترقی کو بھی شدید نقصان پہنچائے گا۔

