کوئٹہ(این این آئی)چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ امریکہ، اسرائیل، ایران جنگی کشیدگی کے خاتمے کے بعد دنیا ایک نئے جیو اسٹریٹیجک اور جیو اکنامک دور میں داخل ہو رہی ہے جس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے اس نازک مرحلے میں پاکستان کا کردار نہایت اہم ہو چکا ہے جہاں اسے اپنی قومی ترجیحات کو سامنے رکھتے ہوئے مستقبل کی مؤثر منصوبہ بندی کرنا ہوگی حالیہ صورتحال میں پاکستان نے ایک مثبت اور متوازن سفارتی کردار ادا کیا ہے جو خطے میں امن کے قیام کیلئے اہم ثابت ہوا۔ جنگ کے بعد پیدا ہونے والی جیو اکنامک تبدیلیاں پاکستان کیلئے نئے مواقع اور چیلنجز دونوں لے کر آئی ہیں توانائی کے بحران، تجارتی راستوں کی تبدیلی اور سرمایہ کاری کے نئے رجحانات ایسے عوامل ہیں جن پر فوری توجہ دینا ضروری ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمدعبدالادرنے کہا ہے کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں توازن برقرار رکھتے ہوئے عالمی اور علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنائے۔ ساتھ ہی داخلی استحکام، معاشی اصلاحات اور سرمایہ کاری کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ ملک ان بدلتے حالات سے بھرپور فائدہ اٹھا سکے قومی سلامتی کے نئے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سیکیورٹی حکمت عملی کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔ عوامی فلاح و بہبود کو ترجیح دینا بھی ناگزیر ہے تاکہ عالمی تبدیلیوں کے اثرات عام شہری تک کم سے کم پہنچیں پاکستان دانشمندانہ حکمت عملی اپنائے اور قومی مفادات کو مقدم رکھے تو وہ اس بدلتی عالمی صورتحال میں ایک مضبوط اور مستحکم مقام حاصل کر سکتا ہے۔

