ماں کے بعد انسان اکیلا نہیں ہوتا مگر مکمل بھی نہیں رہتا

تحریر: رشیداحمدنعیم

زندگی بعض اوقات ہمیں ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ایک عجیب سا اُدھورا پن ساتھ لگا رہتا ہے۔ گھر آباد ہو، رشتوں کی حرارت موجود ہو، اپنائیت کے رنگ بھی مدھم نہ پڑے ہوں مگر دل کے کسی کونے میں ایک خاموش خلا ایسا بسیرا کر لیتا ہے جو ہر خوشی کے لمحے میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتا رہتا ہے۔
میں اکیلا نہیں ہوں۔ میرے اردگرد محبت کرنے والے لوگ موجود ہیں۔ میرے دونوں بڑے بھائی میرے لیے صرف بھائی نہیں بلکہ شفیق باپ کی مانندہیں کیونکہ مجھے اُن میں باپ جیسی شفقت محسوس ہوتی ہے۔ اُن کی گفتگو میں نرمی، روئیے میں اپنائیت اور میرے لیے فکر کا وہ انداز جو اکثر باپ کے حصے میں آتا ہے دکھائی دیتا ہے اور محسوس بھی ہوتا ہے۔یہی سب مجھے سنبھالے رکھتا ہے۔وہ اپنی مصروفیات اور ذمہ داریوں کے باوجود جس طرح میری چھوٹی بڑی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں وہ خالص محبت کی ایک شکل ہے۔ کئی بار یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اُنہوں نے اپنے حصے کی آسانیاں کم کر کے میرے لیے سہولت کا دائرہ وسیع کر دیا ہو۔اسی طرح میرے بھتیجے اور بھتیجیاں بھی میرے لیے محض پیارے پھول جیسے رشتے ہی نہیں بلکہ ایک زندہ مسکراہٹ کی صورت ہیں۔ اُن کی معصوم توجہ، چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو میرے ساتھ بانٹنے کا انداز اور بعض اوقات اپنی خواہشات کو پسِ پشت ڈال کر میری خوشی کو ترجیح دینادل کو چھو لیتا ہے۔ وہ شاید شعوری طور پر نہ جانتے ہوں مگر اُن کی یہ چھوٹی چھوٹی قربانیاں میرے قلب و ذہن کو ہلکا کر دیتی ہیں جیسے کسی تھکے ہوئے مسافر کو اچانک سایہ مل جائے۔
گھر میں زندگی کی رونق بھی ہے اور اپنائیت کی مہک بھی مگر اِس سب کے باوجود ایک حقیقت ہے جو ہر لمحہ میرے ساتھ چلتی ہے وہ ہے ماں کی کمی۔یہ کمی کسی شور کی صورت میں نہیں بلکہ ایک خاموشی کی طرح دل میں بسی ہوئی ہے۔ ایسی خاموشی جو کبھی کبھی اچانک بول اٹھتی ہے۔کسی خوشی کے لمحے میں، کسی کامیابی کے موقع پر یا کسی تھکے ہوئے دن کے اختتام پر۔کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جو آنکھوں سے نہیں ٹپکتے بلکہ دل کے اندر ٹھہر جاتے ہیں اور پھر وہیں سے انسان کو بدل دیتے ہیں۔مجھے ایک واقعہ شدت سے یاد آتا ہے۔ آفس میں ایک دن چوری ہو گئی۔ نقصان اپنی جگہ مگر اِس سے زیادہ بوجھ دل پر تھا۔ میں گھر آیا تو کوشش کی کہ خود کو معمول کے مطابق ظاہر کروں مگر ماں کی نگاہ نے ہمیشہ کی طرح میرے چہرے سے وہ بات پڑھ لی جو میں لفظوں میں نہیں کہہ پا رہا تھا۔پوچھا تو دل کا بوجھ زبان پر آ گیا۔ میں نے ساری بات بتا دی۔وہ خاموشی سے اٹھیں۔ وضو کیا۔ جائے نماز بچھائی۔ دو رکعت نماز ادا کی۔ پھر قرآن مجید کی تلاوت کی اور ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی۔ اُن کے الفاظ آج بھی میرے دل میں تازہ ہیں ”یا اللہ! بات نقصان کی نہیں ہے۔ تُو سب پورا کرنے والا ہے مگر مجھ سے میرے بیٹے کی پریشانی دیکھی نہیں جاتی۔ اسے سکون عطا فرما دے۔“یہ دعا تھی یا ماں کے دل کی پکار؟میں آج تک فیصلہ نہیں کر سکا مگر چند دنوں میں چور پکڑے گئے اور مسروقہ سامان بھی برآمد ہو گیا۔ اُس دن مجھے پہلی بار شدت سے احساس ہوا کہ ماں صرف ایک رشتہ نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک ایسی دعا ہوتی ہے جو انسان کے اردگرد حصار بنائے رکھتی ہے۔
وقت کا پہیہ رکا نہیں۔ زندگی آگے بڑھتی رہی۔ کامیابیاں بھی ملیں۔اعزازات بھی ملے۔ ادبی و صحافتی میدان میں جو کچھ ملا، وہ اللہ کا
فضل ہے۔ تقریبات میں بلایا جاتا ہے۔ سٹیج سجتے ہیں۔نام پکارا جاتاہے۔ میں مسکرا کر آگے بڑھ جاتا ہوں۔ لوگ تالیاں بجاتے ہیں۔ مبارکباد دیتے ہیں۔ بظاہر یہ سب کچھ ایک مکمل خوشی کا منظر ہونا چاہیے مگر سچ یہ ہے کہ یہ خوشی مکمل محسوس نہیں ہوتی۔ہر کامیابی کے ساتھ دل میں ایک ہلکی سی کسک جنم لیتی ہے۔ ایک خیال جو بے اختیار آنکھوں میں اُتر آتا ہے۔کاش!آج ماں ہوتی۔ کچھ خوشیاں ایسی ہوتی ہیں جو بانٹنے کے لیے نہیں صرف ماں کے قدموں میں رکھنے کے لیے بنتی ہیں اور جب وہ قدم ہی نہ ہوں تو خوشی بھی راستہ بھٹک جاتی ہے۔شاید وہ سب سے آگے بیٹھی ہوتیں چہرے پر فخر کی روشنی لیے۔ میں ہر اعزاز اُن کے قدموں میں رکھ کر خود کو کامیاب سمجھتا۔ وہ میری کامیابی کو اپنی دعا کا ثمر جان کر مسکراتیں اور میں اُس مسکراہٹ میں اپنی ساری تھکن بھول جاتا مگر اب ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ اب ہر خوشی کے ساتھ ایک خاموش اداسی بھی جڑی ہوتی ہے۔ ایسی اداسی جو کسی کو دکھائی نہیں دیتی مگر دل کے اندر ایک مستقل کیفیت بن کر رہ گئی ہے۔
یہ سوال اکثر دل میں اُبھرتا ہے کہ جب زندگی میں محبت کی کمی نہیں اور رشتوں کی حرارت موجود ہے تو پھر یہ خلا کیوں باقی ہے؟شاید اِس لیے کہ ماں کسی ایک رشتے کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل احساس کا نام ہے۔ وہ لمس جو سکون دیتا ہے۔وہ دعا جو ڈھال بنتی ہے۔ وہ موجودگی جو بے نام سی تسلی دیتی ہے۔ یہ سب کچھ کسی اور کے حصے میں نہیں آتا۔گھر میں لوگ موجود ہیں مگر ماں کے گرد جو دائرہ تھا ا وہ اب بھی خالی ہے۔ ایک ایسا دائرہ جسے کوئی بھر نہیں سکتا چاہے کتنی ہی محبت کیوں نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ ہر خوشی۔۔۔ خوشی محسوس نہیں ہوتی۔ ہر کامیابی۔۔۔ کامیابی نہیں لگتی۔زندگی چل رہی ہے۔ذمہ داریاں نبھائی جا رہی ہیں۔ وقت اپنے حساب سے گزر رہا ہے مگر دل کے کسی کونے میں ایک اُدھورا پن آج بھی ویسے ہی قائم ہے جیسے ماں کی جدائی کے پہلے دن تھا۔ شاید یہی اُدھورا پن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمیں کبھی کسی نے بے حد چاہا تھااور وہ چاہت آج بھی ہمارے اندر زندہ ہے۔یہی سچ ہے سادہ مگر گہراکہ ماں کے بعد انسان اکیلا نہیں ہوتا مگر مکمل بھی نہیں رہتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں