کوئٹہ (این این آئی) نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق سینیٹر ودانشور میر طاہر بزنجو نے کہا ہے کہ چینی قیادت روسی قیادت کے مقابلے میں زیادہ دوراندیش اور عقل مند ثابت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ 1976 میں چیئرمین ماؤ کی وفات کے فوراً بعد چین میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا آغاز کیا گیا، جس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے۔انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس روسی قیادت اس معاملے میں نااہل ثابت ہوئی اور اصلاحات کا عمل اس وقت شروع کیا گیا جب بہت دیر ہو چکی تھی۔ میر طاہر بزنجو نے کہا کہ وہ 1987 کے اواخر میں اپنی تعلیم مکمل کرکے ماسکو سے وطن واپس آئے، اس دوران انہوں نے وہاں کے عوام میں بے چینی کو محسوس کیا، تاہم یونیورسٹی اساتذہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ ریاست ان بحرانوں پر قابو پا لے گی۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں میر غوث بخش بزنجو جیسے چند دوراندیش سیاسی رہنماؤں کے علاوہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ سوویت یونین جیسی بڑی ریاست چند برسوں میں ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ باشعور اور بلند فکر رکھنے والے لوگ ہی آنے والے حالات کا ادراک کر سکتے ہیں۔میر طاہر بزنجو نے کہا کہ اگر امریکہ کو دو سے تین ڈونلڈ ٹرمپ جیسے صدور مل جائیں تو یہ بڑی طاقت بھی زوال کا شکار ہو سکتی ہے۔ انہوں نے آخر میں سوال اٹھایا کہ اگر امریکہ بھی سوویت یونین کی طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے تو کیا سرمایہ داریت اور سامراجیت پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔

