امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج اپنی قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ ایران جنگ اور آئندہ حکمت عملی پر اہم اجلاس کریں گے، جس میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے آپشنز پر غور متوقع ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد واشنگٹن میں فوجی آپشن دوبارہ سنجیدگی سے زیر غور آ گیا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اب ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے محدود فوجی کارروائی کی طرف مائل دکھائی دے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوں گے۔
امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ چاہتے ہیں، تاہم ایران کی جانب سے امریکی مطالبات مسترد کیے جانے اور جوہری پروگرام پر بامعنی رعایت نہ دینے کے باعث صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
زیر غور آپشنز میں پروجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع کرنا بھی شامل ہے، جس کے تحت امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی رہنمائی اور حفاظت کرتی تھی۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک آپشن ایران پر دوبارہ فضائی حملے شروع کرنا ہے، جس کے تحت پہلے سے نشان زد تقریباً 25 فیصد اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جن پر اب تک حملہ نہیں کیا گیا۔
اسرائیلی حکومت بھی امریکا پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم ذخائر پر قبضے کے لیے اسپیشل فورسز آپریشن کیا جائے، تاہم امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ اس آپریشن کے خطرناک نتائج کے باعث محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران سے متعلق آئندہ فیصلوں میں صدر ٹرمپ کا متوقع دورۂ چین بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے، جہاں وہ چینی قیادت کے ساتھ ایران، تجارت اور خطے کی صورتحال پر بات کریں گے۔

