اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ برطانیہ دنیا کی پہلی ایسی اسلامی جمہوریہ بن سکتا ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار ہوں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو نے یہ بات اسرائیلی آرمی ریڈیو کے لیے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو کے دوران کہی۔ جس پر انھیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو نے ماضی کے اور موجودہ برطانیہ کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ آج کے برطانیہ میں انھیں وہ اسرائیل نواز ماحول دکھائی نہیں دیتا بلکہ یہ ملک اب اسلامی جمہوریہ برطانیہ بن چکا ہے۔
جس پر انٹرویو کرنے والے صحافی نے پوچھا کہ آپ صرف برطانیہ کو نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ یورپ کے دیگر ممالک کا بھی اسرائیل کے حوالے سے رویہ تبدیل ہوا ہے۔
جواب میں اسرائیلی وزیراعظم نے بیان سے پیچھے ہٹنے کے بجائے مزید کہا کہ کسی نے کہا تھا کہ جوہری ہتھیار رکھنے والی پہلی اسلامی جمہوریہ اسلامی جمہوریہ برطانیہ ہوگی۔
یاد رہے کہ پاکستان جو آئینی طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے اور 1990 کی دہائی سے جوہری ہتھیار رکھنے والی پہلی مسلم ریاست بھی ہے۔
تجزیہ کاروں کے بقول نیتن یاہو نے برطانیہ کو پہلی جوہری اسلامی جمہوریہ قرار دیکر دراصل پاکستان پر بھی تنقید کی ہے جو ایران امریکا جنگ بندی کا سب سے اہم اور مرکزی ثالث ملک ہے۔
نیتن یاہو کا یہ متنازع بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ جنگ، اسرائیلی بستیوں اور فلسطینی ریاست کے معاملے پر برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر رہے ہیں۔
برطانیہ کے موجودہ وزیراعظم اینڈی برنہم نے غزہ کے معاملے پر اپنی جماعت لیبر پارٹی کے ابتدائی ردعمل جس میں اسرائیل کی حمایت کی گئی تھی، پر معذرت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پارٹی کا مؤقف مناسب نہیں تھا اور اسے بہتر کرنا ہوگا۔
انھوں نے اسرائیلی حکومت پر مزید دباؤ ڈالنے، بعض اسرائیلی شخصیات اور اداروں پر اضافی پابندیاں عائد کرنے اور مقبوضہ علاقوں میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے متعلق تجارت پر ممکنہ پابندی کی حمایت کی تھی۔
یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو برطانوی حکومت سے ناراض آتے ہیں حالانکہ دیگر یورپی ممالک بھی اسرائیل کی حمایت سے دستبردار ہوتے جا رہے ہیں اور غزہ میں صیہونی ریاست کی نسل کشی پر سخت ردعمل دے رہے ہیں۔
اسرائیلی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس سے کنیسٹ کے امیدوار ایوی ڈابوش نے نیتن یاہو کے بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب اسرائیل کو عالمی سطح پر غیر معمولی سفارتی تنہائی کا سامنا ہے ایک اہم اتحادی ملک کا مذاق اڑانا اسرائیلی حکومت کی ’’خوفناک سفارتی ناکامی‘‘ کی عکاسی کرتا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے نیتن یاہو کے بیان کے بارے میں فوری طور پر کوئی وضاحت نہیں دی کہ آیا برطانیہ کو اسلامی جمہوریہ قرار دینے والا بیان حکومت کا باضابطہ مؤقف ہے جبکہ برطانوی دفترِ خارجہ نے بھی فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
واضح رہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی 2024 میں اسی نوعیت کا متنازع بیان دے چکے ہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ برطانیہ دنیا کا پہلا حقیقی اسلام پسند ملک بن سکتا ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار ہوں۔

