کوئٹہ (این این آئی)جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، سیکرٹری مالیات حاجی صالح محمد، مفتی رضا خان، حاجی ظفراللہ کاکڑ، میر سرفراز شاہوانی، میر حشمت لہڑی، سیٹھ اجمل بازئی، سالار مولوی علی جان، مولانا سید سعداللہ آغا اور مولوی نقیب اللہ ملاخیل نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش سیاسی اور معاشی بحرانوں سے نجات اور حقیقی استحکام کی ضمانت اسلامی نظام کے نفاذ میں ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد 79 برس گزرنے کے باوجود ملک میں ایسی قیادت اور حکمرانی کا تسلسل قائم نہیں ہوسکا جو اسلامی اقدار عوامی فلاح اور قومی خودمختاری کو اپنی ترجیحات کا محور بناتی۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے مختلف ادوار میں مغربی قوتوں کے دباؤ کے تحت مذہبی طبقے اور دینی قوتوں کو سیاسی و قومی معاملات سے دور رکھنے کی کوششیں کی گئیں حالانکہ پاکستان کی نظریاتی اساس اور عوام کی اکثریت کی دینی وابستگی اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ ریاستی نظام کو اسلامی اصولوں کے مطابق استوار کیا جائے۔ اگر ملک کی باگ ڈور دیانتدار باکردار اور دینی شعور رکھنے والی قیادت کے ہاتھ میں ہوتی تو آج قوم کو موجودہ بحرانوں بے یقینی اور بدحالی کا اس قدر سامنا نہ کرنا پڑتا۔انہوں نے کہا کہ سودی معاشی نظام نے ملکی معیشت کو قرضوں کے شکنجے میں جکڑ دیا ہے اور سود کی لعنت سے نجات کے بغیر معاشی خودمختاری کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ ملک کو قرضوں، مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی عدم استحکام سے نکالنے کے لیے اسلامی معاشی اصولوں پر مبنی نظام اختیار کرنا ہوگا۔رہنماؤں نے کہا کہ سیاسی و معاشی پالیسیوں میں بیرونی دباؤ اور مفادات کے بجائے قومی خودمختاری، عوامی مفاد اور اسلامی اصولوں کو مقدم رکھا جائے۔ پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک خودمختار اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے آئین کی اسلامی روح کے مطابق نظامِ حکومت و معیشت کی تشکیل ناگزیر ہے۔

