صوابی (این این آئی)ضلع صوابی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اورسی این جی گیس اور پمپس کی بندش کے خلاف صوابی ایکشن کمیٹی صوابی کے زیر اہتمام عوام کا واپڈا دفاتر صوابی کے باہر دھرنا دوسرے روز بھی جاری رہا۔مظاہرین نے کہا کہ طویل بجلی کی ناروالوڈشیڈنگ اور گیس کی مسلسل بندش نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔دھرنے میں شریک افراد نے حکومت اور واپڈا حکام سے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ان کے جائز مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔ احتجاج ختم نہیں ہوگا۔ مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کر دیا جائے گا۔جبکہ دھرنے کے مقام پر پولیس کی نفری تعینات ہے تاکہ امن و امان برقرار رہے،دریں اثنا متحدہ تحفظ حقوق تاجران مین روڈ تورڈھیر کے صدر احمد فراز خن کی اپیل پرلاقانویت، چوری چکاری اور ٹی ایم اے کی جانب سے سائن بورڈ پر ناجائز ٹیکسز کے خلاف مین روڈ بازار بند رہا، شرکا کا کہنا تھا کہ غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ نے کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر کر دی ہیں، جس کے باعث تاجروں اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔مظاہرین نے کہا کہ سی این جی اسٹیشنوں کی بندش اور روز بروز بڑھتی مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا فوری خاتمہ کیا جائے اور سی این جی اسٹیشنز کو دوبارہ کھولا جائے تاکہ عوامی مشکلات میں کمی آسکے۔احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے خبردار کیا کہ اگر عوامی مسائل فوری طور پر حل نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں اور حکومت پر عائد ہوگی۔

