کوئٹہ(این این آئی)چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک سے ایک لاکھ 64 ہزار پاکستانیوں کی بے دخلی قومی وقار اور معیشت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، عمان اور دیگر خلیجی ممالک سے ایک لاکھ چونسٹھ ہزار سے زائد پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا ان میں سب سے زیادہ تعداد سعودی عرب سے بے دخل ہونے والوں کی ہے جبکہ متحدہ عرب امارات دوسرے نمبر پر ہے یہ تعداد صرف ایک عدد نہیں بلکہ پاکستان کیلئے ایک سنجیدہ سفارتی، معاشی اور سماجی مسئلہ ہے۔ اگر یہ پاکستانی غیر قانونی طور پر مقیم تھے، ویزا قوانین کی خلاف ورزی، بھیک مانگنے، منشیات یا دیگر جرائم میں ملوث تھے تو یہ قومی وقار کیلئے انتہائی شرمناک صورتحال ہے۔ بیرون ممالک پاکستانیوں کا طرزِ عمل براہِ راست پاکستان کی ساکھ سے جڑا ہوتا ہے۔یہاں جاری ہون یوالے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ خلیجی ممالک میں لاکھوں پاکستانی محنت کش اپنی دیانت اور محنت کے باعث عزت کماتے رہے ہیں، مگر چند افراد کی غیر قانونی سرگرمیاں پوری قوم کی بدنامی کا باعث بنتی ہیں۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ اگر بے دخل ہونے والوں میں بڑی تعداد ایسے پاکستانیوں کی تھی جو قانونی طور پر روزگار سے وابستہ تھے اور ملک کو اربوں ڈالر کی ترسیلاتِ زر بھیج رہے تھے، تو ان کی واپسی پاکستان کی کمزور معیشت پر مزید دباؤ ڈالے گی۔ پاکستان پہلے ہی بے روزگاری، مہنگائی اور زرمبادلہ کے بحران سے دوچار ہے۔خلیجی ممالک میں کام کرنے والے پاکستانی ہر سال ملکی معیشت کو سہارا دیتے ہیں اور زرِ مبادلہ کے ذخائر مستحکم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ بیشتر بے دخلیاں ویزا قوانین کی خلاف ورزی، غیر قانونی قیام، ورک پرمٹ مسائل اور بھیک مانگنے جیسے معاملات کے باعث ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت بیرون ملک جانے والے افراد کی مؤثر اسکریننگ کرے، ہنرمند افرادی قوت تیار کرے اور سفارتی سطح پر خلیجی ممالک کے ساتھ بہتر رابطہ استوار کرے۔ اوورسیز پاکستانیوں کو قوانین کی پابندی اور ملکی وقار کے تحفظ سے متعلق آگاہی دینا بھی ناگزیر ہوچکا ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف بیرون ملک پاکستانیوں کیلئے روزگار کے مواقع محدود ہوسکتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ بھی متاثر ہوگی۔ غیر قانونی امیگریشن، انسانی اسمگلنگ اور پیشہ ور بھکاری مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ محنت کش اور قانون پسند پاکستانیوں کی عزت اور روزگار محفوظ رہ سکے۔

