کوئٹہ(این این آئی)کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت کوئٹہ ماسٹر پلان اور شہر کی توسیع سے متعلق ایک جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ایڈیشنل کمشنر کوئٹہ ڈویژن آغا سمیع اللہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کوئٹہ حافظ محمد طارق، کنسلٹنسی فرم، محکمہ جنگلات اور محکمہ ریونیو کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں کوئٹہ شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی اور مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر ماسٹر پلان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر خصوصاً“کوئٹہ گرین انیشیٹو”کے تحت مجوزہ واٹر چینل منصوبے، اس کی پلاننگ، فزیبلٹی اسٹڈی اور دیگر تکنیکی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ کوئٹہ میں ہر سال ہزاروں ایکڑ فٹ برساتی پانی مختلف نالوں کے ذریعے ضائع ہو جاتا ہے، جس کے باعث زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر بارش کے پانی کو محفوظ بنانے اور زیرِ زمین پانی کی سطح میں اضافے کے لیے واٹر چینل کی تعمیر ناگزیر قرار دی گئی۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اگر برساتی پانی کو مؤثر انداز میں محفوظ کیا جائے تو نہ صرف پانی کی قلت پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ مستقبل میں شہر کو ماحولیاتی اور آبی بحران سے بھی بچایا جا سکتا ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ریونیو اسٹاف،سیٹلمنٹ اور کنسلٹنسی فرم مشترکہ طور پر واٹر چینل کے لے آؤٹ، فزیبلٹی اسٹڈی اور دیگر تکنیکی امور کو حتمی شکل دے کر جامع رپورٹ پیش کریں گے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ مجوزہ منصوبے کے تحت کوئٹہ کے دونوں اطراف پہاڑوں کے دامن میں تقریباً 30 فٹ چوڑا واٹر چینل تعمیر کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ منصوبے میں کوشش کی جائے گی کہ زیادہ سے زیادہ سرکاری اراضی استعمال کی جائے جبکہ نجی اراضی کا استعمال کم سے کم رکھا جائے تاکہ منصوبے کی لاگت میں اضافہ نہ ہو۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے متعلقہ حکام کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ واٹر چینل منصوبے کے مختلف پہلوؤں سے جامع پلان تیار کیا جائے تاکہ منصوبے پر بلا تعطل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ واٹر چینل، واچ ٹاورز، اسٹوریج ٹینکس اور واٹر ہارویسٹنگ سسٹم کے ذریعے برساتی پانی کے ضیاع کو روک کر زیرِ زمین پانی کی سطح میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے، جو مستقبل میں کوئٹہ شہر کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔

