کوئٹہ(این این آئی)اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن یونیورسٹی آف بلوچستان اور فپواسا بلوچستان چیپٹر کے پلیٹ فارم سے یونیورسٹی آف بلوچستان کوئٹہ سمیت صوبے کی دیگر جامعات میں گوادر یونیورسٹی کیوائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر منظور شاہ، فیکلٹی ممبر ڈاکٹر ارشاد احمد اور حاتم بلال کے اغوا کے خلاف اور ان کی بازیابی کے لیے بھرپور احتجاجی مظاہرے اور جلسے منعقد کیے گئے۔یونیورسٹی آف بلوچستان میں اساتذہ آفیسز اور ملازمین کی بڑی تعداد نے آرٹس بلاک سے احتجاجی جلوس نکالا جو مختلف شعبہ جات سے ہوتا ہوا وائس چانسلر سیکرٹریٹ کے سامنے پہنچا، جہاں ایک احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا۔ جلسے کی صدارت اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ نے کی۔احتجاجی جلسے سے اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، جنرل سیکرٹری فرید خان اچکزئی، پریس سیکرٹری رحمت اللہ اچکزئی, پروفیسر عبدالباقی جتک، سید شاہ بابر، آفیسرز ایسوسی ایشن اور وفا بلوچ ایمپلائز ایسوسی ایشن نے خطاب کیا۔مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر اور ان کے ساتھی چھ روز قبل اغوا ہوئے، مگر تاحال بازیاب نہیں ہو سکے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے اس معاملے میں سنجیدیگی نہیں دکھائی گئی۔ مقررین کے مطابق وزیراعلیٰ، چیف سیکرٹری، گورنر، وزیر تعلیم، وزیر داخلہ اور دیگر اعلیٰ حکام کو چاہیے تھا کہ وہ اغوا شدگان کے گھروں میں جا کر ان کے اہل خانہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔مقررین نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ صوبے کی دیگر گیارہ جامعات کے وائس چانسلرز اور پرو وائس چانسلرز نے بھی اس واقعے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور اپنے ہم منصبوں کے اغوا کے خلاف مؤثر آواز بلند نہیں کی۔احتجاجی جلسے کے مقررین نے پرزور مطالبہ کیا کہ اغوا شدہ اساتذہ کرام اور سپورٹنگ اسٹاف کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے اور جامعات میں اساتذہ، ملازمین، افسران، طلبہ و طالبات کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔مقررین نے اعلان کیا کہ اگر اغوا شدگان کو فوری طور پر بازیاب نہ کرایا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے صوبائی اسمبلی کے سامنے صوبے بھر کی جامعات کے اساتذہ، ملازمین، افسران اور طلبہ و طالبات کے ہمراہ بڑا احتجاج کیا جائیگا۔

