آبادی میں بے ہنگم اضافہ ملک کے وسائل کیلئے بڑا چیلنج بن چکا ہے،شیری رحمن

کوئٹہ(این این آئی) پارلیمانی فورم برائے پاپولیشن (پی ایف پی) کے پری بجٹ اجلاس میں وفاقی بجٹ 2026-27 سے قبل آبادی میں اضافے سے متعلق مالیاتی اور پالیسی ترجیحات پر تفصیلی غور کیا گیا اجلاس میں سینیٹرز، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اراکین، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے نمائندوں سمیت چالیس سے زائد پارلیمنٹیرینز نے شرکت کی۔ اجلاس کا انعقاد پاپولیشن کونسل نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی (یو این ایف پی اے) کے تعاون سے کیا اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پارلیمانی فورم برائے پاپولیشن کی چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ آبادی میں بے ہنگم اضافہ ملک کے وسائل کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ انہوں نے مانع حمل ادویات اور اشیاء پر عائد ٹیکس فوری طور پر ختم کرنے اور وفاقی و صوبائی سطح پر مضبوط سیاسی عزم کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آبادی کے مسئلے کو قومی اور خاندانی دونوں سطحوں پر سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے تاکہ بجٹ سازی کے عمل میں اسے ترجیح دی جا سکے وزارت خزانہ کے مشیر برائے خصوصی اقدامات عدنان پاشا صدیقی نے اپنے کلیدی خطاب میں آبادی میں اضافے کو پاکستان کی معیشت کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ماضی میں آبادی کی شرح نمو کو مؤثر انداز میں کنٹرول کیا جاتا تو آج پاکستان کی فی کس آمدن اور مجموعی قومی پیداوار کہیں بہتر ہوتی۔ انہوں نے این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے پر نظرثانی، مالیاتی ترجیحات کے ازسرنو تعین اور طویل المدتی قومی پروگرام برائے استحکام آبادی کی ضرورت پر زور دیا معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر حنید مختار نے کہا کہ وفاقی ترقیاتی بجٹ کے حجم کے باوجود آبادی سے متعلق ترجیحات کے لیے مختص فنڈز انتہائی محدود ہیں، جو وسائل کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کے فقدان کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان میں یو این ایف پی اے کی بین الاقوامی فیملی پلاننگ ایڈوائزر ڈاکٹر میلانیا ہدایت نے خاندانی منصوبہ بندی کے شعبے میں مالیاتی خلا کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ فیملی پلاننگ نہ صرف صحت کے شعبے میں اہم سرمایہ کاری ہے بلکہ اس کے معاشی اور سماجی فوائد بھی نمایاں ہیں۔ انہوں نے پاکستان پاپولیشن فنڈ کو فعال بنانے، مختص فنڈز کو محفوظ بنانے اور مانع حمل اشیاء پر ٹیکس کے خاتمے کو فنانس بل کا حصہ بنانے پر زور دیا قومی اسمبلی کے رکن ڈاکٹر فاروق ستار کی زیر نگرانی ہونے والے مباحثے میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں نے شرکت کی اور آبادی کے مسئلے پر مشترکہ سیاسی اتفاق رائے کا اظہار کیا۔ شرکاء نے این ایف سی فارمولے پر نظرثانی، وسائل کی تقسیم کو انسانی ترقی کے اشاریوں سے منسلک کرنے، علاقائی تفاوت کم کرنے اور بنیادی سطح پر خدمات کی فراہمی بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ڈاکٹر فاروق ستار نے مقامی حکومتوں کو آبادی کے استحکام کی حکمت عملی میں شامل کرنے اور پروگرامز کی مؤثر نگرانی یقینی بنانے کی اہمیت بھی اجاگر کی اجلاس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے چیئرمین نوید قمر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پارلیمنٹ آبادی اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق بجٹ وعدوں پر مسلسل نظر رکھے گی تاکہ پالیسی فیصلوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جا سکے۔ انہوں نے مانع حمل اشیاء پر عائد ٹیکس ختم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اجلاس میں پاکستان میں آبادی کے استحکام کے ایجنڈے کو مضبوط بنانے کے لیے ترقیاتی شراکت داروں، خصوصاً فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی کے تعاون کو بھی سراہا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں