ایران کیساتھ امن معاہدہ یا جنگ، ابھی ففٹی ففٹی ہے؛ کل تک حتمی فیصلہ کریں گے؛ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اس وقت ففٹی ففٹی کی صورتحال ہے یعنی یا تو ایک اچھی ڈیل طے پا سکتی ہے یا پھر دوبارہ جنگ ہوگی اس کا حتمی فیصلہ کل تک ہوجائے گا۔

امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے ان خیالات کا اظہار صحافی باراک ریوڈ سے ٹیلیفونک گفتگو میں کیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امن معاہدہ یا جنگ دونوں کے امکانات برابر برابر ہیں۔

صدر ٹرمپ نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں دو میں سے ایک چیز ہوگی یا تو میں ایران کو پہلے سے کہیں زیادہ سخت ضرب لگاؤں گا یا پھر ہم ایک اچھی ڈیل پر دستخط کریں گے۔

انھوں نے ایران سے معاہدے پر اندرونی اختلافات کا اظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بعض امریکی حکام سفارتی معاہدے کے حق میں ہیں جبکہ کچھ حلقے دوبارہ جنگ شروع کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ آج اپنے اعلیٰ مشیروں کے ساتھ اہم اجلاس کریں گے جس میں مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، سابق مشیر جیرڈ کشنر اور نائب صدر جے ڈی وینس شریک ہوں گے۔

امریکی صدر کی صدارت میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں ایران کے ساتھ مذاکرات، ممکنہ معاہدے اور آئندہ امریکی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم سے متعلق ان خبروں کو بھی مسترد کردیا کہ نیتن یاہو ممکنہ امریکا ایران معاہدے پر تشویش میں مبتلا ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ہمارے معاہدے پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو فکر مند نہیں ہیں۔ امریکا ہر فیصلہ اپنے مفادات کے مطابق ہی کرے گا۔

یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے لیے پاکستان ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے اہم دورے سے آج ہی لوٹے ہیں۔

ایرانی اور امریکی حکام نے تصدیق کی ہے معاہدے پر فریقین کے درمیان کچھ معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے اور حل طلب معاملات پر گفتگو جاری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں