بلوچستان بورڈ آفس کی سبی سے منتقلی نہ صرف یہاں کے طلباء و طالبات بلکہ والدین، اساتذہ اور عوام میں شدید بے چینی اور اضطراب پیدا کر رہی ہے حبیب رند

سبی(رپورٹر)قبائلی، سیاسی و سماجی رہنماؤں میر حبیب الرحمن رند اور سعید احمد سیلاچی نے بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن سبی برانچ کو نصیرآباد منتقل کرنے کی خبروں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اس اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اپنے مشترکہ بیان میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان بورڈ آفس سبی کی پہچان اور تعلیمی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے، اسے کسی بھی صورت سبی سے منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے ڈپٹی کمشنر سبی، کمشنر سبی ڈویژن، ایم پی اے سبی ٬ایم این اے سبی ڈویژن٬صوبائی وزیر تعلیم اور وزیر اعلیٰ بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں اور بورڈ آفس کی ممکنہ منتقلی کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بلوچستان بورڈ آفس کی سبی سے منتقلی نہ صرف یہاں کے طلباء و طالبات بلکہ والدین، اساتذہ اور عوام میں شدید بے چینی اور اضطراب پیدا کر رہی ہے۔میر حبیب الرحمن رند اور سعید احمد سیلاچی نے کہا کہ سبی ایک تاریخی اور تعلیمی اہمیت کا حامل شہر ہے، جہاں بلوچستان کے مختلف اضلاع سے طلباء اپنے تعلیمی امور کے سلسلے میں آتے ہیں۔ اگر بورڈ آفس کو منتقل کیا گیا تو اس سے طلباء کو شدید مشکلات، اضافی اخراجات اور سفری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کا براہ راست اثر تعلیم پر پڑے گا۔انہوں نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان بورڈ آفس سبی برانچ کے لیے فوری طور پر مستقل دفتر کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ادارہ مزید مضبوط بنیادوں پر اپنی خدمات جاری رکھ سکے حکومت اس اہم تعلیمی ادارے کے لیے مستقل اور مناسب عمارت فراہم کرے۔انہوں نے مزید کہا کہ سبی کے عوام اپنے تعلیمی اداروں اور سرکاری دفاتر کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کریں گے اور کسی بھی ناانصافی پر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے حکومت بلوچستان سے اپیل کی کہ عوامی جذبات کا احترام کرتے ہوئے بلوچستان بورڈ آفس کو سبی میں ہی برقرار رکھا جائے تاکہ طلباء و طالبات کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں