بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے جنوبی علاقے مالویہ نگر میں واقع ایک گیسٹ ہاؤس میں لگنے والی خوفناک آگ نے بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان پہنچایا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ہوٹل میں آگ لگنے کے بعد بھگدڑ مچ گئی اور بالائی منزل پر مسافر بد حواس ہوکر کھڑکیوں سے کود پڑے۔
رہائشیوں نے ہوٹل سے کودنے والے مسافروں کو بچانے کے لیے سڑک پر موٹے گدے بچھادیئے تاکہ زیادہ چوٹیں نہ لگے۔
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ اپنے کمسن بچے کے ساتھ تیسری منزل سے چھلانگ لگانے والی خاتون کو نیچے موجود لوگوں نے گدوں کی مدد سے بچالیا تاہم دونوں زخمی ہیں۔
آگ عمارت کے گراؤنڈ فلور پر لگی اور پہلی منزل تک جا پہنچی جب کہ اوپری منازل میں دھواں بھر گیا اور وہاں موجود افراد کی حالت غیر ہونے لگی تھی۔
بھارتی ٹی وی چینلز کی نشر کردہ ویڈیوز میں عمارت سے بلند ہوتے دھویں کے بادل اور لوگوں کو جان بچانے کے لیے اوپر سے چھلانگیں لگاتے دیکھا گیا۔
بھارتی پولیس کا کہنا ہے کہ آگ “فلورش اسٹے” نامی 4 منزلہ گیسٹ ہاؤس میں صبح کے وقت بھڑکی۔ علاقہ گنجان آباد ہونے کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ ہولناک آتشزدگی میں 21 افراد ہلاک ہوگئے جن میں سے 18 کا تعلق بنگلا دیش، نائجیریا، موزمبیق اور لائبیریا سے بتایا جا رہا ہے جب کہ 40 سے زائد زخمی ہیں۔
ترجمان فائر بریگیڈ نے بتایا کہ آگ بجھانے کے لیے 8 فائر انجن موقع پر پہنچے اور کئی گھنٹوں کی کوششوں کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا جبکہ سرچ اور ریسکیو آپریشن رات تک جاری رہا۔
تاحال آگ لگنے کی حتمی وجہ کا تعین نہیں کیا جا سکا تاہم شُبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ بجلی کے شارٹ سرکٹ کے باعث پیش آیا ہو۔ بھارت میں ناقص برقی نظام، حفاظتی ضوابط پر عملدرآمد کی کمی اور عمارتوں میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات ناکافی ہیں۔
رواں برس مارچ میں بھی بھارت کے ایک سرکاری اسپتال میں آگ لگنے سے کم از کم 10 مریض ہلاک ہو گئے تھے جبکہ گزشتہ برسوں میں دہلی اور دیگر بڑے شہروں میں بھی ایسے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں۔

