کوئٹہ(این این آئی) پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ نے وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام کے تعاون سے عالمی یومِ ماحولیات 2026 کے موقع پر ملک بھر میں 250 سے زائد تقریبات کا انعقاد کیا۔ یہ سرگرمیاں پاکستان کے تمام صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں منعقد کی جا رہی ہیں۔اس قومی مہم کا مقصد ماحولیاتی ذمہ داری، موسمیاتی شعور اور کمیونٹی سطح پر ماحولیاتی اقدامات کو فروغ دینا ہے تاکہ نوجوانوں اور مقامی آبادی کو ایک سرسبز، صاف ستھرا اور پائیدار پاکستان کی تعمیر میں شریک کیا جا سکے۔میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، نادر گل بڑیچ نے ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی لچک اور گرین گروتھ کے فروغ میں ادارے کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی کمیونٹیز، اسکولوں، مدارس، ہنر مند مراکز، یونین کونسلوں، سول سوسائٹی تنظیموں، سرکاری اداروں، چرچز اور دیگر مقامی شراکت داروں کی شرکت سے مختلف سرگرمیاں منعقد کی جا رہی ہیں، جن میں آگاہی مہمات، ماحولیاتی پروگرامز، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ کمیونٹی انفراسٹرکچر کا افتتاح اور شجرکاری مہمات شامل ہیں۔اہم کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ PPAF کے تعاون سے اب تک 1 لاکھ 71 ہزار سے زائد درخت لگائے جا چکے ہیں، جن میں 1 لاکھ 62 ہزار سے زائد زیتون کے پودے شامل ہیں۔ یہ اقدامات حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، کاربن کے اخراج میں کمی اور قدرتی ماحول کی بحالی میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ماحولیاتی آگاہی پروگراموں اور موسمیاتی خطرات میں کمی کے حوالے سے مقامی حکومتی نمائندوں، اساتذہ، کمیونٹی اراکین اور خدمات فراہم کرنے والے اداروں کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔پی پی اے ایف (PPAF)نے موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ انفراسٹرکچر، واٹر ہارویسٹنگ تالابوں، آبپاشی کے نظام اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں میں بھی نمایاں سرمایہ کاری کی ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں تقریباً 22 لاکھ 30 ہزار مکعب میٹر پانی محفوظ کیا گیا ہے جبکہ 23 ہزار ایکڑ سے زائد اراضی زیرِ کاشت آئی ہے، جس سے ہزاروں زرعی گھرانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔مزید برآں، موسمیاتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں 80 کلومیٹر طویل حفاظتی دیواریں تعمیر کی گئی ہیں جو مقامی کمیونٹیز کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ PPAF نے 167 ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹیاں اور 200 کمیونٹی ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں قائم کی ہیں جبکہ 60 ہزار سے زائد افراد کو آفات کے خطرات میں کمی اور ہنگامی ردِعمل کی تربیت فراہم کی گئی ہے۔ ان اقدامات سے مقامی سطح پر قدرتی آفات سے نمٹنے اور بحالی کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔گرین گروتھ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کے ذریعے 16 میگاواٹ سے زائد صاف توانائی پیدا کی گئی ہے، جس سے لاکھوں افراد مستفید ہو رہے ہیں اور کاربن کے اخراج میں کمی آئی ہے۔ اسی طرح موسمیاتی لحاظ سے موزوں زراعت، لائیوسٹاک مینجمنٹ، گرین اسکلز ڈویلپمنٹ اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کی معاونت کے ذریعے پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔بلوچستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ PPAF صوبے کے 35 میں سے 33 اضلاع میں شراکت دار تنظیموں کے ذریعے خشک سالی سے نمٹنے، آبی وسائل کے انتظام اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری پر کام کر رہا ہے۔ بحالی کے ہزاروں منصوبوں کے ذریعے 24 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد مستفید ہو چکے ہیں۔اسی طرح قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کے ذریعے تقریباً 1 لاکھ 5 ہزار افراد کو صاف توانائی کی سہولت فراہم کی گئی ہے جبکہ موسمیاتی طور پر مضبوط معاشی مواقع پیدا کرنے کے لیے بلاسود قرضوں، فنی تربیت اور کاروباری معاونت کے پروگرام بھی جاری ہیں۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ PPAF موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے، ماحول دوست ترقی کے فروغ اور مقامی کمیونٹیز کی استعداد کار میں اضافے کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا تاکہ ایک محفوظ، خوشحال اور پائیدار پاکستان کی بنیاد مضبوط کی جا سکے۔

