فرانس نے یہودی انتہاپسند اسرائیلی وزیرِ خزانہ کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کردی

فرانس نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے فلسطینی نہتے شہریوں پر بڑھتے ہوئے تشدد اور توسیع پسندانہ سرگرمیوں کے خلاف سخت اقدام اُٹھا لیا۔

فرانسیسی وزیرِ خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ فرانس نے برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور ناروے کے ساتھ مل کر مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد اور غیر قانونی آبادکاری میں اضافے کے ذمہ دار افراد کے خلاف نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ان پابندیوں کے تحت اسرائیلی وزیر خزانہ بیزالیل اسموٹریچ کے علاوہ یہودی آبادکار تنظیموں کے 4 رہنماؤں اور 21 ایسے آبادکاروں کو بھی نشانہ بنایا گیا جو فلسطینیوں پر بہیمانہ تشدد اور انھیں گھروں سے نکالنے میں ملوث تھے۔

فرنسیسی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ان تمام افراد کے فرانس میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور کسی بھی فرانسیسی شہری کو ان کے ساتھ لین دین میں احتیاط برتنے کی تلقین کی گئی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیر خزانہ کھلے عام مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے، نئی یہودی بستیوں کے قیام، غزہ میں دوبارہ آبادکاری اور فلسطینی اتھارٹی کو معاشی طور پر کمزور کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔

فرانسیسی وزیر خارجہ کے بقول یہودی آبادکاروں کی ایسی پالیسیاں فلسطینی عوام پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں اور بین الاقوامی برادری کی اکثریت کے لیے ناقابلِ قبول ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ فرانس اور اس کے اتحادی فلسطین کے دو ریاستی حل کے اصول کے لیے پرعزم ہیں اور خطے میں امن کے قیام کے لیے ایسے اقدامات کی مخالفت کرتے رہیں گے جو فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو نقصان پہنچاتے ہوں۔

واضح رہے کہ غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کی نئی بستیوں کے قیام اور فلسطینی شہریوں کو تشدد کرکے جبراً گھروں سے نکالنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں