کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان کے نامورسیاسی و سماجی اور قبائلی رہنما حاجی شعیب علی خان لہڑی نے کہا ہے کہ 30جون قریب آتے ہی سرکاری فنڈز کا بے دریغ استعمال عوامی پیسے کے ضیاع کے مترادف ہے سارا سال ترقیاتی کام نہیں ہوتے جیسے ہی جون کا مہینہ آتا ہے راتوں رات نالیاں توڑ کر دوبارہ بنانے اورسڑکوں کا پیچ ورک شروع کردیا جاتا ہے جس میں معیار اور کوالٹی کو بھی مد نظر نہیں رکھ جاتا جس سے ہر سال ترقیاتی فنڈز کے اربوں روپے کرپشن کی نظر ہوجاتے ہیں جس فوری نوٹس لیا جاناچاہئے۔ یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں حاجی شعیب علی خان لہڑی نے کہا کہ پاکستان اور بالخصوص بلوچستان میں ہر سال جون کا مہینہ آتے ہی سرکاری دفاتر، ترقیاتی محکموں اور مختلف اداروں میں ایک غیر معمولی سرگرمیاں دیکھنے میں آتی ہیں بظاہر یہ سرگرمیاں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے ہوتی ہے، مگر حقیقت میں اس کا بڑا مقصد مالی سال کے اختتام سے پہلے مختص شدہ فنڈز کو ہر صورت خرچ کرنا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری نظام میں ایک سوچ رائج ہے کہ اگر کسی محکمے کا مکمل بجٹ خرچ نہ ہو تو آئندہ سال اس کے بجٹ میں کمی کی جا سکتی ہے اسی خوف کے تحت جون کے آخری دنوں میں خریداریوں، مرمتوں، ادائیگیوں اور ترقیاتی کاموں کا ایک ہنگامی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے نتیجتاً کئی ایسے منصوبے بھی جلد بازی میں مکمل کیے جاتے ہیں جن کی فوری ضرورت نہیں ہوتی جبکہ عوامی فلاح کے حقیقی منصوبے نظر انداز ہو جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ جون کے آخری ہفتوں میں سڑکوں پر اچانک پیچ ورک شروع ہو جاتا ہے نالیوں کو دوبارہ توڑ کر بنایا جاتا ہے، سرکاری دفاتر میں فرنیچر، کمپیوٹرز اور دیگر سامان کی خریداری بڑھ جاتی ہے گاڑیوں کی مرمت، رنگ و روغن، ٹائروں کی تبدیلی اور انتظامی اخراجات میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آتاہے جو عوامی پیسے کے ضیاع کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اوردیگراداروں کو چاہئے کہ وہ اس کانوٹس لیں اورعوامی پیسے کو ضیاع ہونے سے بچائیں۔

