کوئٹہ(این این آئی)پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ زون کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر شعیب بلوچ نے کوئٹہ سول ہسپتال میں ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب گردی کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیزاب گردی کے واقعہ کی جوڈیشل تحقیقات کرکے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں اور ہسپتالوں میں ڈاکٹروں،پیرامیڈیکل اوردیگرعملے کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا، انصاف کے حصول کیلئے احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کے خلاف حکومت کی انتقامی کارروائیاں کسی بھی طرح درست اقدام نہیں ہے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ زون اسکی مذمت کرتی ہے۔یہ بات انہوں نے جمعرات کو پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ زون کے صدر ڈاکٹر نادر خان اچکزئی،نائب صدر ڈاکٹر زینت، سینئر نائب صدر ڈاکٹر کامیاب، فنانس سیکرٹری ڈاکٹراشرف، جوائنٹ سیکرٹری ڈاکٹرفیاض اور پریس سیکرٹری ڈاکٹر منیر گچکی کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ڈاکٹرز،ہیلتھ کیئر پرووائیڈرز اپنی ساتھیڈاکٹر ماہ نور ناصر پر سول ہسپتال کوئٹہ میں دوران ڈیوٹی ہونے والے افسوسناک حملے کے بعد انصاف،تحفظ،شفاف تحقیقات اور محکمہ صحت میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں انکی آواز کو دبانے کیلئے انتظامی اختیارات اور تادیبی کارروائیوں کا سہارا لیا جارہا ہے جس کی پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ زون مذمت کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری پرامن جدوجہد کسی فرد،گروہ یا ذاتی مفاد کیلئے نہیں ہے بلکہ ڈاکٹر ما ہ نور ناصر کوانصاف کی فراہمی، ڈاکٹروں اورطبی عملے کے جان و مال کے تحفظ، محکمہ صحت میں میرٹ،شفافیت اور احتساب کے فروغ، بدعنوانی، اقربا پروری اور انتظامی بے ضابطگیوں کے خاتمے،بلوچستان کے عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے ہے آئین پاکستان کا آرٹیکل 4ہر شہری کو قانون کے مطابق برتاؤ اور من مانی اقدامات سے تحفظ فراہم کرتا ہے آرٹیکل 9زندگی،آزادی اور محفوظ ماحول میں باوقار زندگی گزارنے کے حق کی ضمانت دیتا ہے جبکہ آرٹیکل 16شہریوں کو پرامن اجتماع اور احتجاج کا بنیادی حق دیتا ہے اسی طرح آرٹیکل 17تنظیم سازی اورانجمن سازی کے حق کو تسلیم کرتا ہے جبکہ آرٹیکل 19آزادی اظہار رائے کی ضمانت فراہم کرتا ہے اور آرٹیکل(E) 37 ریاست کو پابند کرتا ہے ک ہوہ ملازمین کے لئے منصفانہ اور انسانی بنیادوں پر کام کے حالات فراہم کرے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ڈاکٹروں،وکلاء، صحافیوں،اساتذہ اوردیگر پیشہ ور طبقات نے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں 8اگست2026کے سانحہ سول ہسپتال کوئٹہ نے پوری قوم کو سوگوار کیا اسی طرح ماضی میں ڈاکٹروں کے اغواء،ٹارگٹ کلنگ،طبی عملے پر حملوں اور ہسپتالوں میں تشدد کے متعدد واقعات نے صحت کے شعبے میں عدم تحفظ کے احساس کو مزید گہرا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر حملہ صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ پوری ڈاکٹر برادری،خواتین کے تحفظ اور نظام صحت پر حملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر حملہ سول ہسپتال کوئٹہ کے سرجیکل کمپلیکس میں پیش آیا جہاں 5وارڈ اور 3آپریشن تھیٹر موجود ہیں معمول کے سیکورٹی انتظامات کے مطابق ہروارڈ اور آپریشن تھیٹر کے لئے سیکورٹی اہلکار تعینات ہونا چاہئے جس کے مطابق واقعہ کے وقت سرجیکل کمپلیکس میں کم از کم7سے 8سیکورٹی گارڈز موجود ہونے چاہئے تھے مگرا نتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ واقعہ کے بعد ایک بھی سیکورٹی گارڈ موجودنہیں تھا جو نہ صرف انتظامیہ کی سنگین غفلت اور نااہلی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ متعدد سوالات اورشکوک و شہبات کو بھی نم دیتا ہے جن کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہاکہ اسوقت سول ہسپتال کوئٹہ کے بیشتر سی سی ٹی وی کیمرے غیر فعال اور خراب تھے واقعہ کی جو ویڈیو حاصل کی گئی ہے وہ ہسپتال انتظامیہ کے کیمروں کی نہیں بلکہ آرتھوپیڈک وارڈ کی جانب سے اپنے ذاتی وسائل سے نصب کئے گئے کیمروں سے حاصل ہوئی ہے اگر یہ کیمرہ موجود نہ ہوتا تو واقعے کے حصول میں بھی شدید مشکلات پیش آتیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ زون ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن، سینئر کنسلٹنٹس،جنرل پریکٹیشنرز،فارماسٹس،پیرامیڈیکس کے ساتھ مکمل اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر متحد ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ زون مطالبہ کرتی ہے کہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر کیس کی فوری،آزادانہ اور غیرجانبدارانہ عدالتی تحقیقات کرائی جائیں ڈاکٹروں اور دیگر ہیلتھ کیئر پرووائیڈرز کے خلاف جاری تمام شوکاز نوٹسز،معطلیوں اور دیگرانتظامی کارروائیوں کو فوری طور پر واپس لیا جائے،بلوچستان بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں،نرسز،فارماسٹس،پیرامیڈیکس اوردیگر طبی عملے کے لئے موثر اور فول پروف سیکورٹی کو یقینی بنایا جائے،محکمہ صحت میں موجود مبینہ بدعنوانی،اقرباپروری،انتظامی بے ضابطگیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی آزادانہ اورشفاف تحقیقات کرائی جائیں محکمہ صحت میں میرٹ،شفافیت اور احتساب کو یقینی بنایا جائے اور متعدد اضافی وقائم مقام چارجز کے کلچر کا خاتمہ کیا جائے۔

