وفاقی بجٹ 2026-27عوام دشمن، سودی معیشت کا محافظ،محروم طبقات کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے،مولاناعبدالرحمن رفیق

کوئٹہ (این این آئی)جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبدالرحمن رفیق، ضلعی جنرل سیکرٹری حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، ضلعی سرپرستِ اعلیٰ مفتی محمد روزی خان، مولانا حفیظ اللہ،مولانا محمد سلیمان، حافظ دوست محمد مدنی،مولنا عبد البصیر،حافظ رشید احمد، حاجی محمد شاہ لالا، مفتی نیک محمد فاروقی، حاجی نعمت اللہ خان اچکزئی اور دیگر ضلعی رہنماؤں نے وفاقی بجٹ 2026-27کو عوام دشمن، سودی معیشت کا محافظ اور محروم طبقات کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بجٹ سود کی لعنت میں لپٹا ہوا ایک ایسا دستاویز ہے جس میں الفاظ کا ہیر پھیر تو بہت ہے مگر عوامی ریلیف، معاشی خودمختاری اور قومی ترقی کا کوئی واضح روڈ میپ موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ 18 ہزار 771 ارب روپے کے بجٹ میں 8 ہزار 54 ارب روپے سودی قرضوں کی ادائیگی کے لیے مختص کرنا اس تلخ حقیقت کا اعتراف ہے کہ غریب عوام کا خون نچوڑ کر سودی نظام کے ایوانوں کو آباد رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بجٹ کو ترقی اور خوشحالی کا نام دینے کی کوشش کی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بجٹ معاشی غلامی، قرضوں پر انحصار اور عوامی مشکلات میں مزید اضافے کا پیغام دے رہا ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی ناکام معاشی پالیسیوں اور بدانتظامی کا خمیازہ بھگت رہا ہے جس کے نتیجے میں ملک مہنگائی، بے روزگاری، غربت اور معاشی بدحالی کے گرداب میں دھنستا چلا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بدامنی، بے چینی اور معاشی محرومی کی جو آگ بھڑک رہی ہے اسے محض دعوؤں اور اعلانات سے نہیں بلکہ میگا ترقیاتی منصوبوں، صنعتوں کے قیام، نوجوانوں کے لیے روزگار کی فراہمی، تعلیم و صحت میں بھرپور سرمایہ کاری اور مقامی وسائل پر عوام کے حق کو تسلیم کرکے ہی بجھایا جا سکتا ہے، مگر افسوس کہ بجٹ میں ان دونوں صوبوں کے لیے کوئی غیر معمولی ترقیاتی پیکیج، مؤثر حکمت عملی یا روزگار کا جامع منصوبہ پیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی تجارت کی بندش، کاروباری سرگرمیوں میں جمود اور روزگار کے مواقع کی کمی نے بلوچستان کے ہزاروں خاندانوں کو فاقہ کشی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے جبکہ وفاقی حکومت ان بنیادی مسائل سے مسلسل چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ رہنماؤں نے مزید کہا کہ مہنگائی کی موجودہ شرح کے مقابلے میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں معمولی اضافہ محض نمائشی اقدام ہے جو عوام کے زخموں کا مداوا نہیں کر سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں