کوئٹہ (این این آئی)جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ آج پاکستان جن معاشی اور سیاسی بحرانوں میں گھرا ہوا ہے، ان کی بنیادی وجوہات سودی نظامِ معیشت، عوامی مینڈیٹ کی پامالی اور قومی وسائل کی غلط ترجیحات ہیں۔ ملک کے خیرخواہ، دوراندیش اور مخلص قائد مولانا فضل الرحمٰن ہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ پاکستان کو اسلامی اصولوں کے مطابق چلایا جائے اور معیشت کو سود سے پاک کیا جائے۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے آئینی اصلاحات کے دوران سود کے خاتمے اور اسلامی معاشی نظام کے نفاذ سے متعلق نکات کو اجاگر کیا اور ان کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔ یہ طرزِ عمل اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ قوم اور ملک کے مستقبل کا سوچنے والی قیادت اپنی توانائیاں ذاتی مفادات اور استثنیٰ کے حصول پر نہیں بلکہ ریاست کی نظریاتی، معاشی اور آئینی بنیادوں کو مضبوط بنانے پر صرف کرتی ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو ذاتی مفادات کی سیاست اور قومی مفاد کی قیادت کے درمیان امتیاز پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ 2026-27 کا بغور جائزہ لیا جائے تو صورتحال انتہائی تشویشناک نظر آتی ہے۔ ایک طرف وفاقی بجٹ تقریباً 18.8 ٹریلین روپے ہے جبکہ دوسری جانب ملکی قرضوں کا حجم 82 ٹریلین روپے تک جا پہنچا ہے جو سالانہ بجٹ سے چار گنا زیادہ ہے، اس سے بھی زیادہ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بجٹ کا تقریباً 43 فیصد، یعنی 8,054 ارب روپے صرف قرضوں کے سود کی ادائیگی پر خرچ ہوگا۔ یہ اصل قرض کی واپسی نہیں بلکہ صرف سود ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ملک کی معیشت ایک ایسے چکر میں پھنس چکی ہے جہاں عوام کی کمائی، ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی ضروریات کے بجائے سودی ادائیگیوں کی نذر ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب قومی خزانے کا سب سے بڑا حصہ سود کی ادائیگی پر خرچ ہوگا تو تعلیم، صحت، روزگار، صنعت، زراعت اور عوامی فلاح کیلئے وسائل کہاں سے آئیں گے؟۔سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ حکومت ترقی کے دعوے تو کرتی ہے لیکن اعداد و شمار خود ان دعوؤں کی نفی کرتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کیلئے صرف 46 ارب روپے، اسکول ایجوکیشن کیلئے 26.3 ارب روپے، صحت کیلئے 25.1 ارب روپے اور سائنس و ٹیکنالوجی کیلئے محض 3.6 ارب روپے مختص کرنا اس امر کا ثبوت ہے کہ قوم کے مستقبل کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے۔ دنیا کی ترقی یافتہ اقوام نے تعلیم، تحقیق، سائنس اور انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کرکے ترقی حاصل کی، جبکہ ہمارے ہاں سب سے زیادہ وسائل سودی ادائیگیوں پر خرچ ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی معاشی حالت دن بدن کمزور ہو رہی ہے اور عوام مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کے بوجھ تلے دب رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قوم یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ عوامی مینڈیٹ کو روند کر ملک کی باگ ڈور کن ہاتھوں میں دی گئی اور ان فیصلوں کا نتیجہ کیا نکلا؟ آج ملک میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے، معیشت زبوں حالی کا شکار ہے، سرمایہ کاری میں کمی آ رہی ہے، نوجوان بے روزگار ہیں اور سی پیک جیسے گیم چینجر منصوبے اپنی اصل رفتار سے محروم ہو چکے ہیں۔ عوام کو ترقی، خوشحالی اور استحکام کے خواب دکھائے گئے تھے لیکن حقیقت میں انہیں مہنگائی، بدامنی اور معاشی بے یقینی کے سوا کچھ نہیں ملا۔انہوں نے کہا کہ آج اگر کسی نے سودی نظام کے خاتمے اور اسلامی معیشت کے نفاذ کیلئے سب سے زیادہ جدوجہد کی ہے تو وہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن ہیں، جنہوں نے ہر فورم پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ سود نہ صرف اسلامی تعلیمات کے منافی ہے بلکہ معاشی استحصال، طبقاتی تقسیم اور مالی غلامی کا سب سے بڑا سبب بھی ہے۔ وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ سودی نظام نے ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا ہے اور قومی خودمختاری کو بھی متاثر کیا ہے۔ اسلامی اصولوں پر مبنی معیشت اور قانون سازی ہی پاکستان کو پائیدار ترقی، معاشی استحکام اور حقیقی خودمختاری کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود بلوچستان کے عوام آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ صوبے کے لاکھوں بچے مناسب خوراک، معیاری تعلیم اور جدید طبی سہولتوں سے محروم زندگی گزار رہے ہیں۔ ایسے علاقے موجود ہیں جہاں بچوں کے پاس پہننے کیلئے مناسب جوتے تک نہیں، جبکہ معیاری تعلیم اور علاج معالجہ ان کیلئے ایک خواب بن چکا ہے۔ اگر ریاست واقعی ایک روشن، مستحکم اور خوشحال پاکستان کی خواہاں ہے تو اسے سودی معیشت کے بوجھ تلے دبے ہوئے فرسودہ نظام کو تبدیل کرکے عوامی فلاح، اسلامی معاشی اصولوں، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور خصوصاً بلوچستان سمیت محروم علاقوں کی ترقی کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ بصورت دیگر قرضوں، غربت، محرومیوں اور احساسِ بیگانگی کا یہ سلسلہ مزید گہرا ہوتا جائے گا، جس کے نتائج پورے ملک کو بھگتنا پڑیں گے۔

