کوئٹہ (رپورٹر) بلوچستان پاکستان کا سب سے طویل ساحلی علاقہ رکھتا ہے، جو تقریباً 770 کلومیٹر پر محیط ہے۔ یہ ساحل قدرتی وسائل، خصوصاً مچھلیوں اور دیگر سمندری حیات سے مالا مال ہے۔ ماہی گیری بلوچستان کے ہزاروں خاندانوں کا ذریعہ معاش ہے، لیکن گزشتہ کئی برسوں سے غیر قانونی فش ٹرالنگ اور اس سے وابستہ مافیا نے نہ صرف سمندری ماحول کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ مقامی ماہی گیروں کی زندگیوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔
فش ٹرالنگ ایک ایسا طریقہ ہے جس میں بڑے بڑے جال سمندر کی تہہ تک پھیلا کر مچھلیوں کو بڑی مقدار میں پکڑا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ طریقہ بعض حالات میں قانونی طور پر استعمال کیا جاتا ہے، لیکن بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں اکثر غیر قانونی ٹرالرز جدید مشینری اور وسیع جالوں کے ذریعے ضرورت سے زیادہ شکار کرتے ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں چھوٹی مچھلیاں، جھینگے اور دیگر سمندری مخلوقات بھی تباہ ہو جاتی ہیں، جس سے سمندری ماحولیاتی نظام کا توازن بگڑ جاتا ہے۔
فش ٹرالنگ مافیا عام طور پر بااثر افراد اور کاروباری گروہوں پر مشتمل ہوتا ہے جو قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ساحلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر شکار کرتے ہیں۔ ان کے پاس جدید کشتیاں اور طاقتور آلات ہوتے ہیں، جبکہ مقامی ماہی گیر روایتی کشتیوں اور محدود وسائل کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتے۔ نتیجتاً مقامی ماہی گیروں کی آمدنی میں کمی واقع ہوتی ہے اور ان کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔
اس غیر قانونی سرگرمی کے باعث سمندری حیات کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مستقبل میں کئی اقسام کی مچھلیاں ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ سمندر کی تہہ کو پہنچنے والا نقصان مرجانوں، آبی پودوں اور دیگر جانداروں کی بقا کے لیے بھی خطرہ بن رہا ہے۔
حکومتِ پاکستان اور صوبائی حکومت بلوچستان نے مختلف اوقات میں غیر قانونی ٹرالنگ کے خلاف کارروائیوں کا اعلان کیا ہے، تاہم مؤثر نگرانی اور قانون کے سخت نفاذ کی ضرورت اب بھی موجود ہے۔ ساحلی علاقوں میں جدید نگرانی کے نظام، ٹرالنگ پر واضح پابندیوں اور مقامی ماہی گیروں کی معاونت کے ذریعے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بلوچستان کے سمندری وسائل قومی اثاثہ ہیں جن کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ فش ٹرالنگ مافیا کے خلاف مؤثر اقدامات نہ صرف ماحولیات کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں بلکہ ہزاروں ماہی گیر خاندانوں کے مستقبل اور ملکی معیشت کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔۔

