امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں جی سیون اجلاس کے موقع پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے خصوصی ملاقات کی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس اہم ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، ایران تنازع اور آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی جیسے امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں ایران اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی کے باعث توانائی اور بحری راستوں کی سلامتی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
ملاقات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اماراتی ہم منصب شیخ محمد بن زاید النہیان کو ’مضبوط اور با اثر رہنما‘ قرار دیتے ہوئے انہیں خطے میں استحکام کے لیے اہم کردار ادا کرنے والا رہنما کہا۔
اماراتی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے شیخ محمد بن زاید النہیان کو واریئر یعنی جنگجو مزاج رہنما سے بھی تعبیر کیا اور ان کے اقدامات کو سراہا۔ جس میں ابراہام معاہدے میں شمولیت اختیار کرنا اور پھر اس سے جڑے رہنا شامل ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ عالی جاہ محمد بن زاید ایک بہادر اور دلیر رہنما ہیں۔ وہ ڈٹے رہے اور بھرپور انداز میں اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ جو کرنا ضروری ہوتا ہے وہ کرتے ہیں اسی وجہ سے وہ مشہور ہیں۔ وہ ایک جرات مند شخصیت ہیں اور ان کا ملک بھی شاندار ہے۔
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیاں نے اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ میں قیام امن اور طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کی کاوشوں کو سراہا۔
دونوں رہنماؤں کی گفتگو میں آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی زیر بحث رہی جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم بحری گزرگاہ ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ یہ اسٹریٹجک آبی راستہ جلد مکمل طور پر کھول دیا جائے گا اور تجارتی سرگرمیاں معمول پر آ جائیں گی۔

