برطانیہ؛ ٹیچر اور اسکے پارٹنر نے 13 ماہ کے لے پالک بچے کو جنسی تشدد کرکے قتل کردیا

برطانیہ کے شہر بلیک پول میں ہائی اسکول ٹیچر جیمی وارلی اور اس کے پارٹنر کو گود لیے ہوئے 13 ماہ کے معصوم بچے کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مجرم قرار دے دیا گیا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق ننھے بچے پریسٹن کی زندگی پیدائش سے ہی نہایت اذیت ناک تھی۔ اُسے اولڈہم کونسل کے ہنگامی نگہداشت کے حکم کے تحت اس کی والدہ 42 سالہ سارہ ڈیوی سے لے لیا گیا تھا۔

بچے کی والدہ سارہ ڈیوی جب 13 سال کی تھیں تو 1998 میں ایک نحیف اور معمر شخص کے انتہائی سفاک اور ناقابلِ بیان قتل کے جرم میں اسے جیل بھیج دیا گیا تھا اور اس کے بعد سے وہ بار بار جیل جاتی اور باہر آتی رہی ہے۔

جنسی تشدد کے نتیجے میں ہلاک ہونے والا بچہ پریسٹن 16 جون 2022 کو پیدا ہوا تھا اور ابتدائی 9 ماہ تک وہ رضاعی خاندان (Foster Care) کے پاس ایک صحت مند اور خوش حال بچہ تھا۔

مارچ 2023 میں اڈاپشن پینل نے جیمی وارلی اور اس کے پارٹنر جان میک گاؤن کے حق میں منظوری دی جس کے بعد اپریل 2023 میں 9 ماہ کی عمر میں پریسٹن کو ان دونوں کے ساتھ بلیک پول منتقل کیا گیا۔

37 سالہ اسکول ٹیچر جیمی وارلی نے بچے کی دیکھ بھال اور گود لینے کے عمل کے لیے اسکول سے ایک سال کی چھٹی بھی لے رکھی تھی۔

تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے دوران معلوم ہوا کہ گود لیے جانے کے محض چار ماہ کے اندر معصوم بچے پر بدترین ظلم ڈھایا گیا۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ہولناک انکشافات ہوئے ہیں۔ بچے کے جسم پر تشدد کے 40 شدید زخم اور نشانات پائے گئے۔ بازو فریکچر تھا۔ چہرے اور جسم پر شدید نیل کے نشانات تھے۔

اس سے بھی بڑھ کر جیمی وارلی کے موبائل فون سے بچے کی انتہائی قابلِ اعتراض اور نازیبا ویڈیوز اور تصاویر ملیں۔ وہ معصوم بچے کو جنسی گھناؤنے فعل کا نشانہ بناتا رہا۔

موت سے قبل بچے کو تین بار مشکوک حالت میں اسپتال لایا گیا تھا لیکن ملزمان نے ہر بار جھوٹے بہانے بنا کر طبی عملے کو گمراہ کیا۔

27 جولائی 2023 کو پریسٹن کو بے ہوشی کی حالت میں بلیک پول وکٹوریہ اسپتال لایا گیا جہاں وہ دم توڑ گیا۔

جیمی وارلی نے پولیس کو بتایا کہ بچہ باتھ ٹب میں نہاتے ہوئے اچانک پانی میں ڈوب گیا تھا حالانکہ بچے کے بال بالکل خشک تھے اور اس نے ڈائپر پہن رکھا تھا جب کہ پھیپھڑوں یا پیٹ میں پانی موجود نہیں تھا۔

پوسٹ مارٹم سے ثابت ہوا کہ بچے کی موت ڈوبنے سے نہیں بلکہ اس کے منہ اور حلق میں زبردستی کوئی چیز ٹھونسنے کے باعث دم گھٹنے سے ہوئی تھی۔

عدالت نے طویل سماعت اور شواہد کی روشنی میں دونوں ملزمان کو سخت جرائم کا مرتکب پایا۔ 37 سالہ جیمی وارلی کو قتل، سنگین جنسی زیادتی، بچوں پر ظلم و بربریت، اور نازیبا تصاویر بنانے اور پھیلانے کا مجرم قرار دیا گیا۔

عدالتی فیصلہ سنتے ہی ملزم کٹہرے میں گھٹنوں کے بل گر پڑا اور قے کرنے لگا جب کہ اس کا پارٹنر 32 سالہ جان میک گاؤن فزیکرلی کو بچے کی موت کی اجازت دینے، بچے پر جنسی حملوں اور بے رحمی کے برتاؤ میں سہولت کار کا مجرم پایا گیا۔

کیس کی تفتیش کرنے والے ڈیٹیکٹو چیف انسپکٹر اینڈریو فیلوز نے دونوں ملزمان کو خالص شیطانیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے پہلے دن ہی سے ایک معصوم اور ہنستے کھیلتے بچے کی زندگی کو جہنم بنا دیا تھا۔

پراسیکیوشن کی عہدیدار کیرن ٹونگ نے اسے اپنے کیریئر کا سب سے زیادہ خوفناک اور لرزہ خیز کیس قرار دیا۔

عدالت دونوں مجرموں کو جمعرات 18 جون 2026 کے روز سزا سنائے گی۔

دوسری جانب برطانوی چائلڈ سیف گارڈنگ ایجنسیوں نے اس بات کی آزادانہ تحقیقات شروع کر دی ہیں کہ گود لینے کے نظام اور سوشل ورکرز سے اس معصوم کی حفاظت میں کہاں کوتاہی ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں